انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 147

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴۷ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی قربانیوں میں حصہ لیں گی (خواتین سے خطاب) فرموده ۱۶ را پریل ۱۹۴۹ء بر موقع پہلا جلسہ سالانہ منعقدہ ربوہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ کل سے آپ سن رہی ہوں گی یہ جلسہ درحقیقت ربوہ کے افتتاح کا جلسہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہمیں قادیان کچھ عرصہ کے لئے چھوڑنا پڑا ہے اور ہمارے لئے ضرورت ہے کہ جماعتی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے ہم کوئی عارضی مقام بنا ئیں جہاں سلسلہ کے مرکز کے طور پر دنیا میں اشاعت اسلام کے کام کو جاری رکھ سکیں۔عارضی انتظام ہونے کی وجہ سے ہمیں ہر ایک چیز باہر سے لانی پڑتی ہے۔ربوہ میں تو درحقیقت مٹی کا دیا بھی نہیں مل سکتا مگر لاؤڈ سپیکروں کے کام کے لئے بجلی کی ضرورت تھی۔چنانچہ لا ہور سے بجلی کے انجن منگوائے گئے اور لاہور ہی سے لاؤڈ سپیکر لائے گئے بلکہ مزدور تک باہر سے لانے پڑے ہیں اور بعض دفعہ وہ کام چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اس لئے کام ہوتے ہوتے رُک جاتا ہے۔شامیانے وغیرہ بھی لاہور سے آئے ہیں، قناتیں بھی لاہور سے آئی ہیں بلکہ جو لوگ کام کر رہے ہیں وہ بھی لاہور سے آئے ہیں ، کھانا کھلانے والی لڑکیاں اور عورتیں بھی لاہور سے آئی ہیں ، وہ خاکروب جو صفائی کرتے ہیں ان میں سے بھی کچھ لاہور سے آئے ہیں، پانی بھرنے والے سقے اردگرد کے علاقوں سے منگوائے گئے ہیں۔پس یہاں کی در حقیقت کوئی بھی چیز نہیں اس وجہ سے انتظام میں خرابیوں کا ہو جانا کوئی بعید بات نہیں بلکہ خرابیوں کا ہونا لازمی ہے اور اگر کوئی اچھی بات ہو تو وہ