انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 137

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳۷ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر میں تجھ سے ان کے لئے روٹی نہیں مانگتا، میں تجھ سے پلاؤ نہیں ، میں تجھ سے دُنبے کا گوشت نہیں مانگتا ، بے شک یہ بھی تیری نعمتیں ہیں اور اگر اِن کو مل جائیں تو تیرا افضل اور انعام ہے مگر میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تو اِن کو وہ پھل کھلا جو دس میل لے جا کر بھی سڑ جاتا ہے۔تو دنیا کے کناروں سے ان کے لئے ہر قسم کے پھل لا اور انہیں ان پھلوں سے متمتع فرما۔من أمَنَ مِنْهُمْ بالتو و اليوم الآخر، پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ میری اولاد میں سے بھی نبی بنائیو۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر وہ نیک ہوں گے تو ہم اُن کو ی اپنے انعامات سے حصہ دیں گے ورنہ نہیں۔نبی بڑا محتاط ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ میں ہر ایک کو یہ انعام نہیں دے سکتا جو نیک ہوگا صرف اُسے انعام ملے گا۔تو اس دوسری دعا کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی امر کو لوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ یا اللہ جو نیک ہوں صرف اُن کو رزق ديجيو - قَالَ وَ مَن كَفَرَ فَا مَتِّعَهُ قَلِيلًا مَّ اضْطَرُةٌ إلى عَذَابِ النَّارِ، وبئس المصير اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ میں ہمارا اور حکم ہے اور نبوت اور امامت کے معاملہ میں ہمارا اور حکم ہے۔نبوت اور امامت صرف نیک لوگوں کو ملتی ہے مگر رزق ہر ایک کو ملتا ہے۔پس جو کا فر ہو گا دنیا کی روزی ہم اُس کو بھی دیں گے۔چنانچہ سینکڑوں سال تک مکہ کے لوگ مشرک رہے مگر ابرا ہیمی رزق اُن کو بھی پہنچتا رہا۔ہاں تیری نسل ہونے کی وجہ سے وہ اُخروی عذاب سے بچ نہیں سکتے۔مر جائیں گے تو وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور وہ بہت بُر اٹھکانا ہے۔پھر فرماتا ہے یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے تھے کہ خدایا! تیرا گھر تو برکت والا ہی ہو گا کون ہے جو اُسے برکت سے محروم کر سکے ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو نمازیں پڑھنے والے اور تیری یاد میں اپنی زندگی بسر کرنے والے ہوں تا کہ اس گھر کی برکت سے انہیں بھی فائدہ پہنچے مگر انگلی اولادوں کو ٹھیک کرنا آئندہ نسلوں کو درست کرنا اور اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔دبنا تقبل منا ، اے ہمارے ربّ! ہم نے خالص تیرے ایمان اور محبت کے لئے یہ گھر بنایا ہے تو اپنے فضل سے اسے قبول کر لے اور