انوارالعلوم (جلد 21) — Page 136
انوار العلوم جلد ۲۱ رينا واجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ينا واجْعَلْنَا مُسْلِمَيْن لك دينا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْن لك ربَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْن لك ربَّنا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ۱۳۶ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر XXXXXXXXXXX ينا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْن لك و من ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةً لك اے ہمارے رب ! اجعل هذا بنا دے اس کو۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی ہے اُس وقت مکہ کوئی شہر نہیں تھا۔وہ صرف چند جھونپڑیاں تھیں جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں نظر آتی تھیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ زمین جو ویران پڑی ہوئی ہے اسے بنادے۔کیا بنا دے؟ یلدا ایک شہر بنا دے۔عام طور پر جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ اس شہر کو امن والا بنات دے۔حالانکہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہی منشاء ہوتا تو آپ هذا بلدًا کہنے کی بجائے هذَا الْبَلَدَ فرماتے۔مگر آپ هذَا الْبَلَدَ نہیں بلکہ هذا بلدًا امنا کہتے ہیں پس یہ شہر کے بنانے کی دعا ہے۔شہر کو کچھ اور بنانے کی دعا نہیں۔رَبِّ اجْعَلُ هَذا بَلَدًا آمِنًا اے میرے رب ! بنا دے اِس ویران زمین کو ایک شہر۔امنا مگر شہروں کے ساتھ فتنہ وفساد کا بھی احتمال ہوتا ہے۔جب لوگ مل کر رہتے ہیں تو لڑائیاں بھی ہوتی ہیں ، جھگڑے بھی ہوتے ہیں ، فسادات بھی ہوتے ہیں اور پھر شہروں کو فتح کرنے کیلئے حکومتیں حملہ بھی کرتی ہیں۔یا بعض شہر جب بڑے ہو جائیں تو اُن کے رہنے والے اپنا نفوذ بڑھانے کیلئے دوسروں پر حملہ کر دیتے ہیں اور چونکہ یہ سارے خدشات شہروں سے وابستہ ہوتے ہیں اس لئے میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہے ہوں کہ تو اسے امن والا بنائیو۔نہ کوئی اس پر حملہ کرے اور نہ یہ کسی اور پر حملہ کرے۔وارزق اهله من المات اور اس کے رہنے والوں کو ثمرات دیجیؤ۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا یہ مفہوم ہے کہ اے خدا !