انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 133

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳۳ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر بالکل ٹھیک ہے اس کو قائم رکھنا۔چنانچہ حضرت اسماعیل جب واپس آئے اور اُنہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کوئی نئی خبر سناؤ تو اُس نے کہا۔آج کی نئی خبر یہ ہے کہ ایک بڑھا آیا تھا۔حضرت اسماعیل نے جلدی سے کہا پھر ؟ اُس نے کہا۔میں نے اُن کو بٹھایا، پاؤں دُھلائے ، پانی پلا یا اور کھانے کے لئے اُن کے سامنے چیزیں رکھیں۔میں نے اُن سے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھہرئیے جب تک اسماعیل واپس نہیں آ جاتے مگر اُنہوں نے کہا کہ میں زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔اس کے بعد وہ چلے گئے مگر جاتی دفعہ وہ ایک عجیب طرح کا پیغام دے گئے۔انہوں نے کہا کہ اسماعیل سے کہہ دینا، تمہارے دروازہ کی چوکھٹ بڑی اچھی ہے اسے قائم رکھنا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا۔میری بیوی ! یہ آنے والا میرا باپ تھا اور سفارش کر کے گیا ہے کہ میں تمہیں عزت و احترام سے اپنے گھر رکھوں۔آخر وہ دن بھی آ گیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل کو اپنے ساتھ لے کر اُس گھر کی بنیا د رکھی جس کو خانہ کعبہ کہتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَنَابَةُ لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِن مقام ابرهم مُصَلَّى ، وَعَهِدْنَا إِلَى الرجم واسْمعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ والعكيفين والرحمِ السُّجُودِ کا اور جبکہ ہم نے وہ گھر جو ابرہیم نے بنایا اُس کو لوگوں کے لئے بار بار آنے کا مقام بنا دیا، زیارت گاہ بنا دیا، ثواب کی جگہ بنا دیا، وآمنا اور امن کا مقام بنا دیا۔واتَّخِذُوا مِن مقام ابراجمَ مُصَلَّى ، اور اے لوگو! جو خانہ کعبہ کے شیدائی بنتے ہو ، جو بیت اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہو ، تم ہر ایک چیز جو تمہیں پسند آتی ہے، اُس کی تصویر اپنے گھر میں رکھنے کی کوشش کرتے ہو، اگر کوئی پھل تمہیں پسند آئے تو تم اُسے اپنے گھر لاتے اور اپنے بیوی بچوں کو چکھانے کی کوشش کرتے ہو۔اے کم عقلو ! جب تم بازار میں خربوزہ دیکھ کر بس نہیں کرتے بلکہ وہ خربوزہ گھر میں لاتے ہو، جب تم کسی اچھے نظارے کو دیکھتے ہو تو کی اُس کی تصویر کھینچتے اور اپنے بیوی بچوں کو دکھاتے اور آئندہ آنے والوں کے لئے گھر میں رکھتے ہو تو کیا وجہ ہے، کیا سبب ہے، اس میں کون سی معقولیت ہے کہ تم اپنے مونہوں سے تو خانہ کعبہ کی تعریفیں کرتے ہو، اپنے مونہوں سے تو خانہ کعبہ کے احترام کا اظہار کرتے ہو لیکن تم