انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 84

انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۴ دیباچہ تفسیر القرآن اس نے اس کے جواب میں کہا اے بے ایمان قوم ! میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں میں کب تک تمہاری برداشت کروں اُسے میرے پاس لاؤ۔وہ اُسے اس کے پاس لائے اور جب اُس نے اُسے دیکھا فی الفور روح نے اسے اینٹھایا اور وہ زمین پر گرا اور کف بھر کے کوٹنے لگا۔تب اُس نے اس کے باپ سے پوچھا کتنی مدت سے یہ اس کو ہوا؟ وہ بولا بچپن سے۔اور وہ بہت بارا سے آگ میں اور پانی میں ڈالتی تھی تا کہ اسے جان سے مار دے۔پر اگر تو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر رحم کر کے ہماری مدد کر۔یسوع نے اسے کہا اگر تو ایمان لا سکے تو ایماندار کے لئے سب کچھ ہوسکتا ہے۔تب فی الفور اُس لڑکے کا باپ چلایا اور آنسو بہا کے کہا۔اے خدا وند ! میں ایمان لاتا ہوں۔تو میری بے ایمانی کا چارہ کر۔جب یسوع نے دیکھا کہ لوگ دور سے جمع ہوتے ہیں تو اس ناپاک روح کو ملامت کر کے اُسے کہا اے گونگی بہری روح ! میں تجھے حکم کرتا ہوں اس سے باہر نکل اور اس میں پھر کبھی مت داخل ہو۔وہ چلا کر اور اُسے بہت اینٹھا کر اُس سے نکل گئی اور وہ مردہ سا ہو گیا ایسا کہ بہتوں نے کہا کہ وہ مر گیا۔تب یسوع نے اُس کا ہاتھ پکڑ کے اُسے اُٹھایا اور وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور جب وہ گھر میں آیا اُس کے شاگردوں نے خلوت میں اُس سے پوچھا کہ ہم اُسے کیوں نہ نکال سکے ؟ اُس نے انہیں کہا کہ یہ جنس سوا دعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی۔عیسائی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح پر ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے حصول کے لئے کسی عمل صالح کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اوپر کے حوالہ کی یہ آیت کہ یہ جنس سوادُعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی ، بتاتی تھی کہ دعا اور روزہ کی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہیں۔چونکہ حضرت مسیح کے حواریوں نے ان ذرائع سے کام نہ لیا اس لئے باوجود اس بات کے کہ وہ حضرت مسیح پر ایمان لا چکے تھے انجیل کے بیان کے مطابق وہ ایک بد روح کو نہ نکال سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اس آیت کو پیش کرتے ہوئے