انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 83

انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۳ دیباچہ تفسیر القرآن گیا تھا جس کا پہلی انا جیل میں ذکر کیا گیا تھا اور جس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ تو کیوں کی مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔مگر عیسائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراضات سے ڈر کر اس آیت کو بدل ڈالا جو ثبوت ہے اس بات کا کہ موجودہ اناجیل میں اب بھی تحریف و تبدیل ہوتی رہتی ہے۔نمبر ا یوحنا باب ۵ آیت سے میں لکھا تھا:۔” اور گواہی دینے والے تین ہیں۔روح اور پانی اور خون۔اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حوالہ کی بناء پر عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تم تو مسیح کو خدا کہتے ہومگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ وہ رحم مادر میں نو ماہ تک خون کھا تا رہا اور یوحنا حواری کے قول کے مطابق وہ خود خون تھا۔جو شخص نو ماہ تک رحم مادر میں خون کھاتا رہا اور جسے خودخون قرار دیا گیا ہے اُس کو خدا قرار دینا کتنی غیر معقول اور عقل و فہم سے بعید بات ہے۔یہ حملہ بھی ایسا زبر دست تھا کہ عیسائی اس کی تاب نہ لا سکے اور اُنہوں نے اس آیت کی بجائے موجودہ اناجیل میں یہ الفاظ لکھ دیئے کہ :۔تین ہیں جو آسمان پر گواہی دیتے ہیں۔باپ اور کلام اور روح قدس اور یہ تینوں ایک ہیں۔۴۔مرقس باب ۹ آیت ۱۴ تا ۲۹ میں لکھا ہے:۔وو اور جب وہ اپنے شاگردوں کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے چاروں طرف بڑی بھیڑ اور فقیہوں کو ان سے بحث کرتے دیکھا اور فی الفور ساری بھیڑ اُسے دیکھ کر نہایت حیران ہوئی۔اُس کے پاس دوڑ کے اُسے سلام کیا۔تب اس نے فقیہوں سے پوچھا تم ان سے کیا بحث کرتے ہو؟ ایک نے اُس بھیڑ میں سے جواب دیا اور کہا اے استاد! میں اپنے بیٹے کو جس میں گونگی روح ہے تیرے پاس لایا ہوں وہ جہاں کہیں اسے پکڑتی ہے پٹک دیتی ہے اور وہ کف بھر لاتا ہے اور اپنے دانت پیتا ہے اور وہ سُوکھ جاتا ہے۔میں نے شاگردوں سے کہا تھا کہ وہ اسے باہر کر دیں ، پر وہ نہ کر سکے۔