انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 69

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۹ دیباچہ تفسیر القرآن سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں یقیناً موسی سے خدا تعالیٰ نے نہیں کہیں نہ موسی نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں۔نبیوں کو چور اور بٹ مار کہنے والے یہودی علماء نے یہ باتیں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے موسی کے کلام میں داخل کر دیں اور اس بات کو ضروری بنا دیا کہ پھر خدا تعالیٰ ایک کامل کتاب دنیا میں اُتارے جو اِس قسم کی بیہودہ اور لغوا اور مفتریا نہ باتوں سے پاک ہو اور وہ قرآن کریم ہے۔۔پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۰ تا ۳۵ میں لکھا ہے کہ: لوط اپنی دونوں بیٹیوں سمیت اپنے شہر سے نکل کر ایک غار میں رہنے لگا۔تب پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں ہے جو تمام جہان کے دستور کے موافق ہمارے پاس اندر آوے۔آؤ ہم اپنے باپ کو مے پلاویں اور اس سے ہم بستر ہوویں تا کہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں سو انہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مے پلائی اور پلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی۔پر اُس نے لیٹتے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا اور دوسرے روز ایسا ہوا کہ پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلا دیں اور ٹو بھی جا کر اُس سے ہم بستر ہو کہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔سو اُس رات بھی اُنہوں نے اپنے باپ کو مے پلائی اور چھوٹی اُٹھ کے اُس سے ہم بستر ہوئی اور اس نے اٹھتے اور بیٹھے وقت اُسے نہ پہچانا۔کیا یہ تعلیم واقعہ کے لحاظ سے ممکن اور اخلاق کے لحاظ سے قابل برداشت ہے؟ مگر تورات خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی نسبت ایسی کہانی بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔لیکن تو رات سے مراد اس جگہ وہ تو رات نہیں جو خدا نے موسی پر نازل کی تھی بلکہ یہ وہ تو رات ہے جو بنی اسرائیل کے علماء نے اُس وقت لکھی جب اُنہیں حضرت لوط کی حقیقی یا نام نہا د اولا دمو آب یا بنی عمون سے اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور بنی اسرائیل کا ایمان اتنا کمزور ہو چکا تھا اور دل اتنے سخت ہو چکے تھے کی کہ اُنہوں نے موآب اور بنی عمون کو ملعون کرنے کے لئے خدا کے نبی حضرت لوط پر حملہ کیا اور کی خدا کی کتاب میں ایسی گندی باتیں لکھیں جن کو خدا تعالیٰ کے نبیوں کی نسبت کوئی شخص سننے کے