انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 68

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۸ دیباچہ تفسیر القرآن افسانہ میں مذکور ہوتی تو یہ اس کا ٹھیک مقالہ ہوتا۔مگر خدا کے کلام میں ایسی باتوں کا کیا دخل۔قرآن کریم نے کس صفائی کے ساتھ حقیقت کو بیان کر دیا ہے فرماتا ہے كَانَتْ مِنَ الْغَبِرِينَ - ۲۲ لوط کی بیوی کھمبا ومبا کوئی نہیں بنی بلکہ اس نے لوط کے ساتھ جانا پسند نہ کیا کیونکہ وہ خدا کی محبت پر اپنے رشتہ داروں کی محبت کو ترجیح دیتی تھی۔غرض ایسی بیسیوں باتیں ہیں جو ہیں تو موسی کے زمانہ کی لیکن تو رات ان کو غلط بیان کرتی ہے۔مگر قرآن کریم نے دو ہزار سال کے بعد آ کر اُن کی اصلاح کی ہے اور ایسی اصلاح کی ہے کہ عقل سلیم اُن کی سچائی تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔بائبل کی خلاف اخلاق باتیں پھر بائبل میں بعض ایسی خلاف اخلاق باتیں بھی درج ہیں جن کی نسبت کوئی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ و وه خدا تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہوں یا خدا کے نبیوں نے ایسا کام کیا ہوگا۔۔پیدائش باب ۹ میں لکھا ہے کہ نوح نے انگور کا ایک باغ لگا یا اُس کی سے پی کر نشہ میں آیا اور اپنے ڈیرے کے اندر اپنے آپ کو ننگا کیا اور اس کے بیٹے حام نے اُس کی عریانی کا تماشہ دیکھاتی اور پھر جا کے اپنے بھائیوں کو خبر دی۔۶۳ کیا کوئی عقل مند آدمی اس بات کو باور کر سکتا ہے کہ وہ کی نوح جس کی نسبت آتا ہے:۔نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ چلتا تھا۔۱۴ وہ ننگا ہو کر اپنے بچوں کے سامنے آجائے گا؟ اور کیا یہ بات کوئی عقلمند انسان مان سکتا ہے کہ نوح ننگا ہو اور بُرا بھلا حام کو کہا جائے ؟ ایک ننگے پر نظر ڈالنے والا انسان آخر اُس کو نگا نہیں تو اور کیا دیکھے گا۔پس حام کا اس میں کیا قصور تھا کہ اُس نے نشہ سے چورا اپنے باپ کو دیکھ لیا۔مگر بائبل کہتی ہے کہ نوح نے کہا:۔کنعان ملعون ہو ۶۵۰ حالانکہ کنعان کا کوئی بھی قصور نہ تھا۔دیکھنے والا کنعان کا باپ حام تھا۔حام کے خلاف تو نوح نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مگر کنعان پر لعنت کر دی جس کا کوئی قصور نہ تھا۔کیا اس لئے کہ حام اُس کا بیٹا تھا اور کنعان اُس کا پوتا تھا ؟ پس اِس قسم کے اعمال نہایت ہی اخلاق سوز ہیں اور خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنا نہایت ہی شرمناک امر ہے۔ہر عظمند