انوارالعلوم (جلد 20) — Page 557
انوار العلوم جلد ۲۰ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب ہوا ہے تاریخی واقعات کی ایک لمبی زنجیر کی آخری کڑی ہے۔بیشک آج مسلمان اس بات کا خیال کر کے بہت ہی شرم محسوس کرتے ہیں کہ تین دن پہلے مسلمانوں کے لیڈر حیدر آباد سے یہ براڈ کاسٹ کر رہے تھے کہ ہم دتی کے لال قلعہ کی طرف آرہے ہیں اور تین دنوں کے اندراندر انہوں نے ہتھیار بھی ڈال دیئے اور ان ساری امیدوں کو چھوڑ دیا جور بع صدی سے اپنے دلوں میں لئے بیٹھے تھے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتلاء بھی اگر پاکستان کے مسلمانوں کے عزم کو اور بلند کرنے کا موجب ہو جائے تو بلاء زحمت نہیں بلکہ بلا ء رحمت ثابت ہوگا۔خدا تعالی تمام دنیوی دروازے بند کر کے مسلمانوں کو بلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ۔خدا کی رحمت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے کاش ! مسلمان اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کی آواز پر لبیک کہیں۔اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو سکتا۔خدا کے فرشتے کو میں اس کو اونچا رکھیں گے۔ہمیں تو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ خدا کے فرشتوں کے ہاتھوں کے ساتھ ہمارے ہاتھ بھی اس جھنڈے کو سہارا دے رہے ہوں۔اے خدا! تو مسلمانوں کی آنکھیں کھول تا کہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں ، تیری آواز کوسنیں اور اسلام پھر دنیا میں معزز اور مؤقر ہو جائے۔( الفضل لا ہور۲۱ رستمبر ۱۹۴۸ء )