انوارالعلوم (جلد 20) — Page 556
انوار العلوم جلد ۲۰ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب معاملے میں نظام کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے وہاں عام دُور اندیشی اور انصاف اور علم پروری کی میں یقیناً یہ خاندان نہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتا رہا ہے اور اسی وجہ سے کسی اور ریاست کے باشندوں۔میں اپنے رئیس سے اتنی محبت نہیں پائی جاتی جتنی کہ نظام کی رعایا میں نظام کی پائی جاتی ہے۔انصاف کے معاملہ میں میرا اثر یہی رہا ہے کہ حیدر آباد کا انصاف برطانوی راج سے بھی زیادہ کی اچھا تھا۔ہندو مسلمان کا سوال کبھی نظاموں نے اُٹھنے نہیں دیا اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول رہے۔لیکن جہاں یہ صحیح ہے کہ حیدر آباد کا نظام خاندان کبھی بھی جنگی خاندان ثابت نہیں ہوا ، وہاں یہ بھی درست ہے کہ حیدرآباد کی رعایا بھی جنگی رعایا نہیں۔کوئی نئی روح ان کو جنگی بنا سکتی تھی مگر نواب بہادر یار جنگ کی وفات کے بعد وہ نئی روح حیدر آباد میں نہیں رہی۔سید قاسم رضوی کے جاننے والے جانتے ہیں کہ بہادر یار جنگ والی روح ان میں نہیں۔بہادر یار جنگ علاوہ اعلیٰ درجہ کے مقرر ہونے کے عملی آدمی تھے۔قاسم رضوی صاحب مقر ر ضرور ہیں مگر اعلیٰ درجہ کے عملی آدمی نہیں ہیں۔شہزادہ برار کے اندر بھی کوئی ایسی روح نہیں۔شہزادہ برار نے آج سے اکیس سال پہلے بعض مہا سبھائی ذہنیت کے لوگوں سے ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ اقرار کیا تھا کہ جب بھی میں برسر حکومت آؤں گا میں فلاں فلاں رعائتیں ہندو قوم کو دوں گا۔یہ معاہدہ ان کے ایک مخلص مصاحب کے علم میں آگیا اور اس نے ان کے کاغذات میں سے وہ معاہدہ نکال کر مجھے پہنچا دیا۔اُس وقت معلوم ہوا کہ شہزادہ برار کو کوئی جیب خرچ نہیں ملتا تھا اور بعض ہندوؤں نے اُن کو روپیہ دینا شروع کر دیا تھا۔جس کی بناء پر انہوں نے یہ معاہدہ کیا تھا۔میں نے اس معاہدہ کی اطلاع گورنمنٹ آف انڈیا کو دی کی اور اس کو توجہ دلائی کہ اتنی بڑی سلطنت کے ولی عہد کو کوئی جیب خرچ نہ ملنا نہایت خطر ناک بات ی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گورنمنٹ آف انڈیا نے اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے حکماً شہزادے کا جیب خرچ مقرر کروایا جو غالباً دس ہزار یا بیس ہزار روپیہ ماہوار تھا۔ایسے انسان سے کیا امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اس نازک وقت میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر قوم کی راہنمائی کرے گا۔پس حیدر آباد کا واقعہ گو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ ہے لیکن جو کچھ اس وقت