انوارالعلوم (جلد 20) — Page 507
انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچهتفسیر القرآن صرف خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے مل گئی ہیں بلکہ ہم یہ کام خدا تعالیٰ کے براہِ راست حکم کے ماتحت کی کر رہے ہیں۔اس علمی تحفہ کے پیش کرنے کے علاوہ میں دنیا کے تمام مذاہب کے راستی پسند لوگوں سے کہتا ہوں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔قرآن کریم بھی ہر زمانہ میں پھل دیتا ہے اور اس کی کے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ اپنا تازہ الہام نازل کرتا اور ان کے ہاتھ پر اپنی قدرتوں کی کا اظہار کرتا رہتا ہے۔پس کیوں نہ علمی غور اور فکر کے علاوہ اس مشاہدہ کے ذریعہ سے صداقت معلوم کر لی جائے۔اگر مسیحی پوپ یا اپنے آرچ بشپوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ میرے مقابل پر اپنے پر نازل ہونے والا تازہ کلام پیش کریں ، جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور علم غیب پر مشتمل ہو تو دنیا کو سچائی کے معلوم کرنے میں کس قدر سہولت ہو جائے گی۔وہ پوپ اور پادری جو مسیح کی صلح کل پالیسی کو ترک کر کے عیسائی فضا کو صلیبی جنگوں پر اُکساتے رہے ہیں کیا وہ آج اس روحانی جنگ کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتے۔کاش ! وہ اس کے لئے تیار ہوں یا اُن کے اتباع اُنہیں اس کے لئے آمادہ کریں تو دنیا ایک لمبے روحانی مرض سے جلد نجات حاصل کر سکے اور خدا تعالیٰ کا جلال اور اس کی قدرت خارق عادت طور پر ظاہر ہو کر لوگوں کے ایمان اور روحانیت کی اصلاح کا موجب ہوں۔میں اس دیباچہ کے آخر میں مولوی شیر علی صاحب کی اُن بے نظیر شکریہ واعتراف خدمات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے باوجود صحت کی خرابی کے قرآن کریم کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کے متعلق کی ہیں۔اسی طرح مولوی شیر علی صاحب اور ملک غلام فرید صاحب، خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب مرحوم اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے ترجمہ پر تفسیری نوٹ میری مختلف ریروں اور کتابوں اور درسوں کا خلاصہ نکال کر درج کئے ہیں۔مجھے ان انگریزی نوٹوں کے دیکھنے کا موقع نہیں ملا ، مگر ان لوگوں کے تجربہ اور اخلاص پر یقین کرتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ اُنہوں نے صحیح طور پر ان مضامین کی ترجمانی کی ہوگی جو میں نے براہ راست خدا تعالیٰ کے افضال کے ماتحت قرآن کریم سے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ کے