انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 430

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۳۰ دیباچہ تفسیر القرآن حضرت حفصہ اور حضرت اُم سلمہ۔ان میں سے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔اور ابن ابی داؤد کتاب الشریعت میں لکھتے ہیں کہ مہاجرین میں سے تمیم بن اوس الداری اور عقبہ بن عامرؓ کا حافظ ہونا بھی ثابت ہے۔اسی طرح بعض مصنفوں نے ثابت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے عمر و بن العاص اور موسیٰ اشعری بھی حافظ قرآن تھے۔انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے اُن کے نام یہ ہیں:۔عبادہ بن صامت۔معاد - مجمع بن حارثہؓ۔فضالہ بن عبید۔مسلمہ بن مخلد۔ابوالد ر داو۔ابوزیڈ۔زید بن ثابت۔ابی بن کعب۔سعد بن عبادہ۔ام ورقہ۔تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ سوانح میں واقعہ بئر معونہ کے ماتحت ذکر آچکا ہے کہ سنہ ۴ ھ ہجری میں بعض قبائل کی درخواست پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ بخص آدمی لوگوں کو دین سکھانے کے لئے بھیجے تھے جو سب کے سب قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ لوگ اپنی اپنی مجالس میں رات دن قرآن سناتے تھے۔چنانچہ حافظ ابو یعلی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! ابو موسی اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ ان کے ارد گر د جمع ہیں اور وہ اُن کو قرآن یاد کرا رہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے وہاں کسی ایسی جگہ پر بٹھا سکتے ہو جہاں سے وہ لوگ مجھے نہ دیکھ سکیں۔اُس نے کہا ہاں۔اس پر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گیا اور گھر کے کسی ایسے کو نہ میں جا کر بٹھا دیا جہاں لوگوں کو آپ نظر نہیں آتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ کی قراءت کو سنا تو وہ بالکل درست تھی اور بہت اچھی طرح وہ قرآن پڑھ رہے تھے اس پر آپ نے فرمایا إِنَّهُ لَيَقْرَأُ عَلَى مِزْمَارِ مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وہ تو داؤد علیہ السلام کے خوبصورت طریق پر قرآن پڑھ رہا ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علاوہ ان چار حافظوں کے جن کو آپ نے اُستاذ الاساتذہ مقرر کیا تھا باقی لوگوں کی قرآت کا بھی امتحان لیتے رہتے تھے اور ان کی نگرانی رکھتے تھے تا کہ وہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں۔