انوارالعلوم (جلد 20) — Page 429
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲۹ دیباچهتفسیر القرآن صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یا ز بر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھا نہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اس لئے دوسری زبانوں کے آدمی جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے ان حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اس حرکت سے پڑھ لیتی ہے۔مہاجرین وانصار سے حفاظ قرآن ان چار کے سوا مسلمانوں میں اور بھی بعض بڑے بڑے قراء تھے مثلاً زید بن ثابت جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے۔ابوزید تھے جن کا نام قیس ابن السکن تھا۔۵۳۳ یہ انصاری تھے اور بنونجا رقبیلہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہال میں سے تھے۔اسی طرح ابو درداء انصاری بھی قراء میں سے تھے۔۵۳۴ پھر حضرت ابو بکر بھی قاری تھے۔چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع زمانہ سے ہی قرآن شریف حفظ کرتے چلے آرہے تھے۔حضرت علیؓ کی نسبت بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ انہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا بعد شروع کر دیا تھا۔نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ( حضرت عمرؓ کے لڑکے ) بھی قرآن شریف کے حافظ تھے اور وہ قرآن کریم کے اتنے مشتاق تھے کہ ساری رات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم کر لیتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا اقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ میں ایک دفعہ ختم کر لیا کرو۔رات میں ایک دفعہ ختم نہ کیا کرو اس سے طبیعت پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے۔ابوبکر عمر عثمان ، علی۔طلحہ۔سعد۔ابن مسعودؓ۔حذیفہ۔سالم - ابو ہریرۃ۔عبد اللہ بن سائب - عبد اللہ بن عمرؓ - عبد اللہ بن عباس۔اور عورتوں میں سے عائشہ۔مہینہ