انوارالعلوم (جلد 20) — Page 419
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۹ دیا چه تفسیر القرآن مجھ میں تین عیب ہیں۔جھوٹ ، شراب خوری اور زنا۔میں نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ عیب کسی طرح مجھ سے دور ہو جائیں مگر میں اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔آپ کوئی علاج بتا ئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک گناہ چھوڑنے کا تم مجھ سے وعدہ کرو۔دو میں چھڑا دوں گا۔اُس نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں فرمائیے کون سا گناہ چھوڑ دوں؟ آپ نے فرما یا جھوٹ کی چھوڑ دو۔کچھ دنوں کے بعد وہ آیا اور اُس نے کہا آپ کی ہدایت پر میں نے عمل کیا اور میرے سارے ہی گناہ چھٹ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا بتاؤ کیا گزری ؟ اُس نے کہا میرے دل میں ایک دن شراب کا خیال آیا میں شراب پینے کے لیے اُٹھا تو مجھے خیال آیا کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے شراب پی ہے تو پہلے میں جھوٹ بول دیا کرتا تھا اور کہہ دیا کرتا تھا کہ نہیں پی۔مگر اب میں نے سچ بولنے کا اقرار کیا ہے اگر میں نے کہا کہ شراب پی ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر کہوں گا کہ نہیں پی تو جھوٹ کا ارتکاب کروں گا جس سے بچنے کا میں نے اقرار کیا ہے۔چنانچہ میں نے دل میں کہا کہ اس وقت نہیں پیتے پھر پیں گے۔اسی طرح میرے دل میں زنا کا خیال پیدا ہوا اور اس کے متعلق بھی میری اپنے دل سے یہی باتیں ہوئیں کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا۔اگر یہ کہوں گا کہ میں نے زنا کیا ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر یہ کہوں گا کہ نہیں کیا تو جھوٹ بولوں گا۔اور جھوٹ سے بچنے کا میں اقرار کر چکا ہوں۔اسی طرح میرے اور میرے دل کے درمیان کئی دن تک یہ بحث و مباحثہ جاری رہا۔آخر کچھ مدت تک ان دونوں عیبوں سے بچنے کی وجہ سے میرے دل سے ان کی رغبت بھی مٹ گئی اور سچ کے قبول کرنے کی وجہ سے باقی عیبوں سے بھی محفوظ ہو گیا۔سجس کی ممانعت اور نیک خلفی کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس سے منع فرماتے تھے اور ایک دوسرے پر نیک ظنی کا یتے رہتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں آپ فرمایا کرتے تھے بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور تجسس نہ کرو اور لوگوں کے حقارت سے اور نام نہ رکھا کرو اور حسد نہ کیا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھا کرو اور سب کے سب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بندے سمجھو