انوارالعلوم (جلد 20) — Page 418
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۸ دیباچہ تفسیر القرآن کیں تا کہ صحابہ اُن سے کھانا پکا سکیں۔۵۱۵ آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسروں کے کاموں پر اعتراض نہ کیا کرو اور ایسے معاملات میں دخل نہ دیا کرو جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح فتنہ پیدا ہوتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اسلام کا بہترین نمونہ یہ ہے کہ جس معاملہ کا اُس سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو اس میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کیا کرے۔آپ کا یہ خلق ایسا ہے کہ جس کی نگہداشت کر کے دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ہزاروں ہزار خرابیاں دنیا میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مصیبت زدہ کی مدد کر نے کیلئے تو تیار نہیں ہوتے مگر خواہ مخواہ لوگوں کے معاملات پر اعتراض کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔سچ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔۵۱۶ آپ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے اور ایسے اعلیٰ درجہ کے بیچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے۔۵۱۷ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔حضرت عمر سمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل اور وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ کریں تو اُسے قتل کر دیں۔جب وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا۔يَا رَسُولَ الله! شخص تو واجب القتل تھا۔آپ نے فرمایا۔واجب القتل تھا تو تم نے اُسے قتل کیوں نہ کیا۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔آپ نے فرمایا نبی دھو کے باز نہیں ہوتا۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں منہ سے تو اُس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔۵۱۸ ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ الله! ہے