انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 397

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۷ دیباچہ تفسیر القرآن کے ہاتھوں کی رسیاں کھول دیں اور رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوگئی تو آپ نے فرمایا میرے رشتہ دار ویسے ہی دوسروں کے رشتہ دار۔یا تو میرے چچا عباس کو بھی پھر رسیوں سے باندھ دو یا سارے قیدیوں کی رسیاں کھول دو۔صحابہ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا احساس تھا اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! ہم پہرہ سختی سے دے لیں گے لیکن سب قیدیوں کی رسیاں ہم کھول دیتے ہیں ، چنانچہ سب قیدیوں کی رسیاں اُنہوں نے کھول دیں۔آپ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہ کو باہر خبر رسانی کے لئے بجھوایا۔دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے صحابہ نے اس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ جا کر مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک لڑائی میں مارا گیا۔جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا، تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آیا کہ اُنہوں نے حرم کے اندر ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں۔جو لوگ حرم کے اندرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا کہ تم کی ہم سے حرم کے احترام کی امید رکھتے ہو گر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا۔ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں اُنہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو اس لئے آپ لوگوں کو خون بہا دیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں دستور تھا اُن کے ورثاء کو ادا کیا۔جذبات کا احترام اپنے تو اپنے غیروں کے جذبات کا احترام بھی آپ بہت زیادہ کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس آیا اور اُس نے آ کے شکایت کی کہ دیکھئے ! حضرت ابو بکڑ نے میرا دل دُکھایا ہے اور کہا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔اس بات کو سن کر میرے دل کو تکلیف پہنچی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو بلا کر اُن سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا ، يَا رَسُولَ الله! اس شخص نے ابتداء کی تھی اور کہا تھا کہ میں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے ساری دنیا پر فضلیت عطا فرمائی ہے اس پر