انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 396

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۶ دیباچہ تفسیر القرآن پیدل سپاہی نے اس خیال سے کہ اگر افسر نیچے اُترا تو ایسا نہ ہو کہ کوئی نقصان پہنچ جائے جھک کر کوڑا اُٹھانا چاہا تا کہ اُن کے ہاتھ میں دیدے۔اس صحابی کی نظر اُس سپا ہی پر پڑ گئی اور انہوں نے کہا اے میرے بھائی! تجھے خدا ہی کی قسم تو کوڑے کو ہاتھ نہ لگا یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے کود پڑے اور کوڑا اُٹھا لیا پھر اپنے ساتھی سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا ہے تھا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا اگر میں کوڑا تمہیں اُٹھانے دیتا تو گو میں نے اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا تھا لیکن اس میں کیا شبہ تھا کہ زبانِ حال سے یہ سوال ہی بن جاتا اور ایسا کرنا مجھے وعدہ خلاف بنا دیتا گو یہ جنگ کا میدان ہے مگر میں اپنا کام خود ہی کروں گا۔۴۵۱ انصاف انصاف اور عدل آپ کے اندر اتنا پایا جا تا تھا کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔عربوں میں لحاظ داری اور سفارشوں کا قبول کرنا ایک عام مرض تھا۔عرب و کا کیا ذکر ہے اس زمانہ کے متمدن ممالک میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بڑے آدمیوں کو سزا دیتے ہی وقت جھجکتے ہیں اور غریبوں کو سزا دیتے وقت نہیں گھبراتے۔ایک دفعہ ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا، ایک بہت بڑے خاندان کی کسی عورت نے کسی دوسرے کا مال ہتھیا لیا تھا۔جب حقیقت کی کھل گئی تو عربوں میں بڑا ہیجان پیدا ہو گیا کیونکہ ایک بہت بڑے معزز خاندان کی ہتک ہوتی انہیں نظر آئی۔انہوں نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ درخواست پیش کریں کہ اس عورت کو معاف کر دیا جائے۔اور تو کسی شخص نے جرات نہ کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز اسامہ بن زید کولوگوں نے چنا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کریں۔اسامہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات شروع ہی کی تھی کہ آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا ! اسامہ! یہ کیا چی کہہ رہے ہو، پہلی تو میں اسی طرح تباہ ہوئیں کہ وہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور میں ایسا ہر گز نہیں کر سکتا۔خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرتی تو میں اُسے سزا دیئے بغیر نہ رہتا۔۴۵۲ یہ واقعہ پہلے سوانح میں آچکا ہے کہ بدر کی جنگ میں جب حضرت عباس قید ہوئے تو ان کے کراہنے سے آپ کو تکلیف محسوس ہوئی لیکن جب صحابہ نے آپ کی تکلیف دیکھ کر حضرت عباس کی