انوارالعلوم (جلد 20) — Page 360
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۶۰ دیباچہ تفسیر القرآن شامی لشکروں کے مقابلہ کے لئے جائیں۔یہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف کا تھا۔قحط کا سال تھا پچھلے موسم میں غلہ اور پھل کم پیدا ہوا تھا اور اس موسم کی اجناس ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ستمبر کا آخر یا اکتوبر کا شروع تھا، جب آپ اس مہم کے لئے روانہ ہوئے۔منافق تو چی جانتے تھے کہ یہ سب شرارت ہے اور یہ کہ انہوں نے یہ سب چالا کی اس لئے کی ہے کہ اگر شامی لشکر حملہ آور نہ ہوا تو مسلمان خودشامیوں سے جالڑیں اور اس طرح تباہ ہو جائیں۔موتہ کی جنگی کے حالات ان کے سامنے تھے اُس وقت مسلمانوں کو اتنے بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ بہت کچھ نقصان اُٹھا کر بمشکل بچے تھے۔اب وہ ایک دوسری موتہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے جس میں خود در سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نَعُوذُ بِاللہ شہید ہو جا ئیں اس لئے ایک طرف تو منافق روزانہ یہ خبریں پھیلاتے تھے کہ فلاں ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دشمن حملہ کرنے والا ہے فلاں ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ شامی فوجیں آ رہی ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو ڈرا رہے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ آسان نہیں تمہیں جنگ کے لئے نہیں جانا چاہئے۔ان کارروائیوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ مسلمان شام پر حملہ کرنے کے لئے جائیں تو سہی ، لیکن جہاں تک ہو سکے کم سے کم تعداد میں جائیں تاکہ ان کی شکست زیادہ سے زیادہ یقینی ہو جائے۔مگر مسلمان رسول اللہ ہے کے اس اعلان پر کہ ہم شام کی طرف جانے والے ہیں اخلاص اور جوش سے بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر رہے تھے۔غریب مسلمانوں کے پاس جنگ کے سامان تھے کہاں؟ حکومت کا خزانہ بھی خالی تھا۔ان کے آسودہ حال بھائی ہی ان کی مدد کیلئے آ سکتے تھے۔چنانچہ ہر شخص قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔حضرت عثمان نے اُس دن اپنے روپے کا اکثر حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا جو ایک ہزا ر سونے کا دینا ر تھا یعنی قریباً ۲۵ ہزار روپیہ۔اسی طرح اور صحابہ نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق چندے دیئے اور غریب مسلمانوں کے لئے سواریاں یا تلواریں یا نیزے مہیا کئے گئے۔صحابہ میں قربانی کا اس قدر جوش تھا کہ یمن کے کچھ لوگ جو اسلام لا کر مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے اور بہت ہی غربت کی حالت میں تھے ان کے کچھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ، يَا رَسُولَ اللہ ! ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیے ہم کچھ اور نہیں چاہتے ہم صرف یہ چاہتے