انوارالعلوم (جلد 20) — Page 359
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۹ دیباچہ تفسیر القرآن ہوازن سے فارغ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے گئے۔یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے لوگوں کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تھا اور آج خدا کا رسول مکہ فتح کرنے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔غزوہ تبوک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ وجہ سے ذکر و وظائف کرنے کا عادی تھا اور اس کی وجہ سے لوگ اس کو راہب کہتے تھے مگر مذ ہبا عیسائی نہیں تھا۔یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا۔جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لئے کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی کی گاؤں میں جا کر رہنا شروع کیا۔سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی کر لینے کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔صرف وہی منافق اس کو جانتے تھے جن کے ساتھ اس نے اپنا تعلق پیدا کر لیا تھا۔اس نے مدینہ کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا کر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکا تا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تحریک کرتا ہوں۔ادھر تم یہ مشہور کرنا شروع کر دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ کر رہی ہیں۔اگر میری سکیم کامیاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مٹھ بھیٹر ہو جائے گی اور اگر میری سکیم کا میاب نہ ہوئی تو ان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا کر خود حملہ کر دیں اور اس طرح قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور ہمارا کام بن جائے گا۔چنانچہ یہ تحریک کر کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں ہے خبریں مشہور کرنی شروع کر دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور اُس نے بتایا تھا کہ شامی لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔دوسرے دن پھر کہدیتے تھے کہ فلاں قافلہ کے لوگ ہمیں ملے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لشکر چڑھائی کرنے والا ہے۔یہ خبر میں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لشکر لے کر خود