انوارالعلوم (جلد 20) — Page 354
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۴ دیباچہ تفسیر القرآن بے تحاشا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح ہماری سواری کے جانور میدانِ جنگ کی طرف آئیں لیکن دو ہزار اونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے وہ ایسے بدک گئے تھے کہ ہمارے ہاتھ باگیں کھینچے کھینچتے زخمی ہو ہو جاتے تھے مگر اُونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ مرکب کا سر اُس کی پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔مگر پھر جب ایڑی دے کر ہم اُس کو پیچھے میدانِ جنگ کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے کوٹنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگتا۔ہمارا دل دھڑک رہا تھا کہ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہوگا مگر ہم بالکل بے بس تھے۔ادھر تو صحابہ کی یہ حالت تھی اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے تھے۔دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑ رہے تھے اور پیچھے کی طرف صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں صرف چند آدمی ہی گزر سکتے تھے مگر پھر بھی سوائے اُس راستہ کے اور کوئی نجات کی راہ نہیں تھی۔اُس وقت حضرت ابو بکر نے اپنی سواری سے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کی یا رَسُولَ اللہ ! تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے۔آپ نے فرمایا ابوبکر ! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑی لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی تیراندازی کر رہے تھے اور فرمایا۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ۳۷۲ میں خدا کا نبی ہوں میں جھوٹا نہیں ہوں۔مگر یہ بھی یا درکھو کہ اس وقت خطرہ کے مقام پر کھڑے ہوئے بھی جو میں دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ میرے اندر خدائی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ میں انسان ہی ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو جن کی آواز بہت بلند تھی آگے بلایا اور فرمایا۔عباس ! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ ! جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورہ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔حضرت عباس نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا، تو اُس وقت صحابہ کی جو حالت ہوئی اُس کا اندازہ۔