انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 353

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۳ دیباچہ تفسیر القرآن بعض نے کہا يَارَسُولَ اللہ !ہمارے لئے بھی آپ ایک ذات انواط مقرر فرمائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ بڑا ہے یہ تو وہی موسی کی قوم والی بات ہوئی کہ جب وہ کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان کے قبائل کو اُنہوں نے بت پوجتے دیکھا تو موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا يموسَى اجْعَل لنا إلا ما لَهُمُ الهَه ۳۷۰ اے موسیٰ ! جس طرح ان کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی کوئی معبود تجویز کر دیجئے۔فرمایا یہ تو جہالت کی باتیں ہیں میں ڈرتا ہوں کہ اس قسم کے وہموں کی وجہ سے کہیں تم میں سے بھی ایک گروہ ایسی ہی حرکتیں نہ کرنے لگ جائے۔ہوازن اور ان کے مددگار قبائل نے ایک کمین گاہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بنا چھوڑی تھی جیسے آجکل لڑائی کے میدان میں مخفی خندقیں ہوتی ہیں جب اسلامی لشکر حسنین مقام پر پہنچا تو وہ ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی منڈیریں بنا کر ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور بیچ میں سے ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا۔اکثر سپاہی تو ان ٹیلوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی اونٹوں وغیرہ کے سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے۔مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے اور کمین گاہ کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اب ہم اچھی طرح حملہ کر سکتے ہیں تو اگلی کھڑی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوؤں سے تیراندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دیئے۔مکہ کے لوگ جو یہ سمجھ کر ساتھ شامل ہوئے تھے کہ آج ہم کو بھی بہادری دکھانے کا موقع ملے گا اس دوطرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔مسلمان گواس قسم کی تکالیف اُٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اُونٹ اُن کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اُونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔تین طرف کے حملہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ۱۲ صحابی کھڑے رہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے صحابہ بھاگ گئے تھے بلکہ ۱۰۰ کے قریب اور آدمی بھی میدان میں کھڑے رہے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاصلہ پر تھے۔آپ کے گردصرف ایک درجن قریب آدمی رہ گئے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں اور میرے ساتھی