انوارالعلوم (جلد 20) — Page 344
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴۴ دیباچہ تفسیر القرآن بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کافر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی ڈاڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ آؤ اور اس بڑھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرتا کہ جاؤ اور اپنی کچ جانوں اور اپنے شہر کی عزت کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاؤ یہ تم میں امن کا اعلان کر رہا ہے۔ابوسفیان نے اُس کی حرکت کو دیکھ کر کہا۔بے وقوف ! یہ ان باتوں کا وقت نہیں جا اور اپنے گھر میں چھپ جا۔میں اُس لشکر کو دیکھ کر آیا ہوں جس لشکر کے مقابلہ کی طاقت سارے عرب میں نہیں ہے ہے۔پھر ابوسفیان نے بلند آواز سے امان کی شرائط بیان کرنا شروع کیں اور لوگ بے تحاشا اُن گھروں اور اُن جگہوں کی طرف دوڑ پڑے، جن کے متعلق امان کا اعلان کیا گیا تھا۔۳۵۷ صرف گیارہ مرد اور چار عورتیں ایسی تھیں جن کی نسبت شدید ظالمانہ قتل اور فساد ثابت تھے، وہ گویا جنگی مجرم تھے اور ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ قتل کر دیے جائیں کیونکہ وہ صرف کفر یالڑائی کے مجرم نہیں بلکہ جنگی مجرم ہیں۔اس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولیڈ کو بڑی سختی سے حکم دے دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص لڑے نہیں تم نے لڑنا نہیں۔لیکن جس طرف سے خالد شہر میں داخل ہوئے کی اُس طرف امن کا اعلان ابھی نہیں پہنچا تھا اُس علاقہ کی فوج نے خالد کا مقابلہ کیا اور ۲۴ آدمی مارے گئے۔چونکہ خالد کی طبیعت بڑی جو شیلی تھی کسی نے دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچا دی اور عرض کیا کہ خالد کو روکا جائے ورنہ وہ سارے مکہ والوں کو قتل کر دے گا۔آپ نے فوراً خالد کو بلوایا اور فرمایا کیا میں نے تم کو لڑائی سے منع نہیں کیا تھا ؟ خالد نے کہا يَا رَسُولَ الله آپ نے منع تو فرمایا تھا لیکن اِن لوگوں نے پہلے ہم پر حملہ کیا اور تیراندازی کی شروع کر دی میں کچھ دیر تک رُکا اور میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تم ایسا مت کرو۔مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ کسی طرح باز نہیں آتے تو پھر میں اُن سے لڑا اور خدا نے اُن کو چاروں طرف پراگندہ کر دیا۔۳۵۸ بہر حال اس خفیف سے واقعہ کے سوا اور کوئی واقعہ نہ ہوا اور مکہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ ہو گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے آپ سے لوگوں