انوارالعلوم (جلد 20) — Page 343
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴۳ دیباچہ تفسیر القرآن زیادہ نیک ، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔کیا آج اپنی قوم کے ظلموں کو بھول نہ جائیں گے؟ ابوسفیان کی یہ شکایت والتجاء سن کر وہ مہاجرین بھی جن کو مکہ کی گلیوں میں پیٹا اور مارا جاتا تھا ، جن کو گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کیا جاتا تھا تڑپ گئے اور ان کے دلوں میں بھی مکہ کے لوگوں کی نسبت رحم پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله انصار نے مکہ والوں کے مظالم کے جو واقعات سنے ہوئے ہیں آج ان کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ وہ قریش کے ساتھ کیا معاملہ کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوسفیان ! سعد نے غلط کہا ہے آج رحم کا دن ہے۔آج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ کو عزت بخشنے والا ہے۔پھر آپ نے ایک آدمی کو سعد کی طرف بجھوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قیس کو دے دو کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈر ہوگا۔۳۵۵ اس طرح آپ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ رکھا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیس پر پورا اعتبار بھی تھا کیونکہ قیں نہایت ہی شریف طبیعت کے نو جوان تھے۔ایسے شریف کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان کی وفات کے قریب جب بعض لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے اور بعض نہ آئے تو انہوں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بعض جو میرے واقف ہیں میری عیادت کے لیے نہیں آئے۔ان کے دوستوں نے کہا آپ بڑے مخیر آدمی ہیں آپ ہر شخص کو اُس کی تکلیف کے وقت قرضہ دے دیتے ہیں۔شہر کے بہت سے لوگ آپ کے مقروض ہیں اور وہ اس لئے آپ کی عیادت کے لئے نہیں آئے کہ شاید آپ کوضرورت ہوا اور آپ اُن سے روپیہ مانگ بیٹھیں۔آپ نے فرمایا اوہو! میرے دوستوں کو بلا وجہ تکلیف ہوئی میری طرف سے تمام شہر میں منادی کر دو کہ ہر شخص جس پر قیس کا قرضہ ہے وہ اُسے معاف ہے۔اس پر اس قد رلوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کے مکان کی سیٹرھیاں ٹوٹ گئیں۔۳۵۶ جب لشکر گزر چکا تو عباس نے ابوسفیان سے کہا۔اب اپنی سواری دوڑا کر مکہ پہنچو اور اُن کی لوگوں کو اطلاع دے دو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور انہوں نے اِس اِس شکل میں مکہ کے لوگوں کو امان دی ہے۔جب کہ ابوسفیان اپنے دل میں خوش تھا کہ میں نے مکہ کے لوگوں کی نجات کا رستہ نکال لیا ہے اُس کی بیوی ہندہ نے جو ابتدائے اسلام سے مسلمانوں سے