انوارالعلوم (جلد 20) — Page 306
انوار العلوم جلد ۲۰ ٣٠٦ دیباچہ تفسیر القرآن کا اپنا مذہب بھی یہی تھا کہ طواف کعبہ میں کسی کے لئے روک نہیں ڈالنی چاہئے اور باوجود اسے کے کہ مسلمانوں نے وضاحت سے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف طواف کعبہ کے لئے جار ہے ہیں کسی قسم کی مخالفت یا جھگڑے کے لئے نہیں جار ہے مکہ والوں نے مکہ کو ایک قلعہ کی صورت میں تبدیل کر دیا اور اردگرد کے قبائل کو بھی اپنی مدد کے لئے بلوایا۔جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش نے چیتوں کی کھالیں پہن لی ہیں اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے لیا ہے اور یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ آپ کو گزرنے نہیں دیں گے۔یہ عرب کا رواج تھا کہ جب قوم موت کا فیصلہ کر لیتی تھی تو اس کے سردار چیتے کی کھالیں پہن لیتے تھے جس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ اب عقل کا وقت نہیں رہا ، اب دلیری اور جرات سے ہم جان دے دیں گے۔اس اطلاع کے ملنے کے تھوڑی دیر بعد ہی مکہ کی فوج کا ہراول دستہ مسلمانوں کے سامنے آکھڑا ہوا اب اس مقام سے صرف اسی صورت میں آگے بڑھا جا سکتا تھا کہ تلوار کے زور سے دشمن کو زیر کیا جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ فیصلہ کر کے آئے تھے کہ بہر حال ہم نہیں لڑیں گے،آپ نے ایک ہوشیار راہبر کو جو جنگل کے راستوں سے واقف تھا اُسے اس بات پر مقرر کیا کہ وہ جنگل کے اندر سے مسلمان زائرین کو لے کر مکہ تک پہنچا دے۔یہ راہبر آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو لے کر حدیبیہ کے مقام پر جو مکہ کے قریب تھا جا پہنچا۔یہاں آپ کی اونٹنی کھڑی ہوگئی اور اُس نے آگے چلنے سے انکار کر دیا۔صحابہ نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! آپ کی اونٹنی تھک گئی ہے آپ اس کی جگہ دوسری اونٹنی پر بیٹھ جائیں۔مگر آپ نے فرمایا۔نہیں نہیں یہ تھکی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہر جائیں اور میں یہیں ٹھہر کر مکہ والوں سے ہر طریقہ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں حج کی اجازت دے دیں اور خواہ کوئی شرط بھی وہ کریں میں اُسے منظور کر لوں گا۔اُس وقت تک مکہ کی فوج مکہ سے دور فاصلہ پر کھڑی تھی اور ی مسلمانوں کا انتظار کر رہی تھی۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو بغیر مقابلہ کے مکہ میں داخل ہو سکتے تھے۔لیکن چونکہ آپ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ پہلے آپ یہی کوشش کریں گے کہ مکہ والوں کی اجازت کے ساتھ طواف کریں اور اُسی صورت میں مقابلہ کریں گے کہ مکہ والے خود لڑائی شروع کر کے لڑنے پر مجبور کریں۔اس لئے باوجود مکہ کی سڑک کے کھلا ہونے کے آپ