انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 305

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۰۵ دیباچہ تفسیر القرآن پندرہ سو صحابہ کے ساتھ اس عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی مکہ کو روانگی ایک رؤیا دیکھی جس کا قرآن کریم میں ان آنحضرت ﷺ کی مکہ کو روانگی الفاظ میں ذکر آتا ہے۔لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّيَّا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللهُ أَمِنِيْنَ مُحلِقِينَ رُءُوسَكُمْ وَ مُقَصِّرِينَ لا تَخَافُونَ ، فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذُلِكَ فَتْحًا قَرِيباً ۳۲۴ یعنی ضرور تم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے۔تم میں سے بعضوں کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے اور بعضوں کے بال کٹے ہوئے ہوں گے ( حج کے وقت سر منڈانا اور بال کٹانا ضروری ہوتا ہے ) تم کسی سے نہ ڈر رہے ہو گے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔اس وجہ سے اُس نے اس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ایک اور فتح مقرر کر دی ہے جو خواب والی فتح کا پیش خیمہ ہوگی۔اس رؤیا میں در حقیقت صلح اور امن کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے کی خبر دی گئی تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ شاید ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ اس غلط فہمی سے اس قسم کی بنیاد پڑنے والی تھی اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ نہ کیا۔چنانچہ آپ نے اپنے صحابہ میں اس بات کا اعلان کیا اور اُنہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کی۔مگر فرمایا ہم صرف طواف کی نیت سے جارہے ہیں کسی قسم کا مظاہرہ یا کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دشمن کی ناراضگی کا موجب ہو۔چنانچہ آخر فروری ۶۲۸ ء میں پندرہ سو زائرین کے ساتھ آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے (ایک سال بعد کل پندرہ سو آدمیوں کا آپ کے ساتھ جانا بتاتا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے جنگ احزاب کے موقع پر اس تعداد سے کم ہی سپاہی ہوں گے۔کیونکہ ایک سال میں مسلمان بڑھے تھے گھٹے نہ تھے۔پس جنگ احزاب میں لڑنے والوں کی تعداد جن مؤرخوں نے تین ہزار لکھی کی یہ غلطی کی ہے۔درست یہی ہے کہ اُس وقت بارہ سو سپاہی تھے ) حج کے قافلہ کے آگے ہیں ہے یہ سوار کچھ فاصلہ پر اس لئے چلتے تھے تا کہ اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کو وقت پر اطلاع مل جائے۔جب مکہ والوں کو آپ کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو باوجود اس کے کہ اُن