انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 293

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۳ دیباچہ تفسیر القرآن جنگ کے متعلق اسلام کی تعلیم اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان در میان تعلیم دیتا ہے یعنی نہ تو وہ موسی کی طرح کہتا ہے کہ تو جارحانہ طور پر کسی ملک میں گھس جا اور اُس قوم کو تہ تبلیغ کر دے اور نہ وہ اس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح ببانگِ بلند یہ کہتا ہے اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے۔مگر اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار میں خرید لو۔بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے قیام کے لئے ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو کسی چیز پر حملہ نہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو تب تو اس کے حملہ کا جواب دے۔یہی وہ تعلیم ہے جس سے دنیا کی میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔اس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔آپ مکہ میں برا بر تکلیفیں اُٹھاتے رہے، لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔مگر جب مدینہ میں آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں۔قرآن کریم میں جو متفرق احکام اس بارہ میں آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں : (1) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اذن للذين يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُواء وإن الله على تضرهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَق إلا أن يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ، وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ لهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيه وَصَلوتَ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كثِيرًا، وَليَنصُرَنَّ الله مَن يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ الَّذِينَ إِنْ مكْتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَّوُا الزَّكُوةَ وَآمَرُوا بالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ، وَ لِلّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ۳۰۲ یعنی اس لئے کہ اِن ( مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اور ان مسلمانوں کو جن سے دشمن نے لڑائی جاری کر رکھی ہے، آج کی )