انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 282

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۲ دیباچہ تفسیر القرآن تھے وہ ایک جنگل کی طرح ویران ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حج الہام کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔آپ نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے کسی شخص کو بھیجنا چاہا اور اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے صحابہ کو آواز دی۔وہ سردی کے ایام تھے اور مسلمانوں کے پاس کپڑے بھی کافی نہ ہوتے تھے۔سردی کے مارے زبانیں تک جمی جا رہی تھیں۔بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی اور ہم جواب بھی دینا چاہتے تھے مگر ہم سے بولا نہیں گیا۔صرف ایک حذیفہ تھے جنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! کیا کام ہے؟ آپ نے فرمایا تم نہیں مجھے کوئی اور آدمی چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کوئی ہے؟ مگر پھر سردی کی شدت کی وجہ سے جو جاگ بھی رہے تھے وہ جواب نہ دے سکے۔حذیفہ نے پھر کہا میں يَا رَسُولَ الله! موجود ہوں۔آخر آپ نے حذیفہ کو یہ کہتے ہوئے بجھوایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے، جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے حذیفہ خندق کے پاس گئے اور دیکھا کہ میدان گلی طور پر دشمن کے سپاہیوں سے خالی تھا۔واپس آئے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔صبح مسلمان اپنے خیمے اکھیڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف آنے شروع ہوئے۔۹۳ نہیں دنوں کے بعد مسلمانوں نے اطمینان کا ۲۹۳ بنو قریظہ کو اُن کی غداری کی سزا سانس لیا۔مگراب بنوقریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔اُن کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرمایا گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنو قریظہ کے پاس بجھوایا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ اُنہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی ؟ بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شرمندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے اُنہوں نے حضرت علیؓ اور اُن کے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا چیز ہیں ہمارا اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔حضرت علی اُن کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم