انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 281

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۱ دیباچهتفسیر القرآن سکتے۔دوسرے ہم مدینہ کے رہنے والے ہیں اور تم باہر کے۔اگر تم لوگ لڑائی چھوڑ کر چلے جاؤ گی تو ہمارا کیا بنے گا۔اس لئے آپ لوگ ہمیں، ۷ آدمی یر غمال کے طور پر دیں گے تب ہم لڑائی میں شامل ہوں گے۔کفار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا اُنہوں نے اُن کے اِس مطالبہ کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تمہارا ہمارے ساتھ اتحا د سچا تھا تو اس قسم کے مطالبہ کے کوئی معنی نہیں۔اس واقعہ سے اُدھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اِدھر کفار کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جب شبہات دل میں پیدا ہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہو جاتی ہے۔انہی شکوک وشبہات کو ساتھ لئے ہوئے کفار الشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا، تو خدا تعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔رات کو ایک سخت آندھی چلی جس نے قناتوں کے پردے توڑ دیئے۔چولہوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگئیں بجھ گئیں۔مشرکین عرب میں ایک رواج ی تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے۔جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتا تھا کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اُٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔جن قبائل کی آگ بجھی اُنہوں نے اس رواج کے مطابق اپنے خیمے اُٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے تا کہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آشامل ہوں۔لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سرداران لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے ، جو قبائل پیچھے ہٹے اُن کے اردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جارہے ہیں۔چنانچہ اُنہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دیئے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ابوسفیان کی اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اس واقعہ کی خبر اُسے بھی پہنچی۔وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اُونٹ پر جا چڑھا اور اُس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دی۔آخر اُس کے دوستوں نے اس کو توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔اس پر اُس کے اُونٹ کی رسیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت میدان سے بھاگ گیا۔۲۹۲ رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں پچیس ہزار کے قریب کفار کے سپاہی خیمہ زن کی۔