انوارالعلوم (جلد 20) — Page 193
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۳ دیباچہ تفسیر القرآن دے رہا تھا۔اسلام ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بناتا ہوا نظر آتا تھا۔جس نئے آسمان اور زمین کے ہوتے ہوئے عرب کا پرانا آسمان اور پُرانی زمین قائم نہیں رہ سکتے تھے۔اب یہ سوال مکہ والوں کے لئے ہنسی کا سوال نہیں رہا تھا اب یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔اُنہوں نے اسلام کے چیلنج کو قبول کیا اور اُسی روح کے ساتھ قبول کیا جس روح کے ساتھ نبیوں کے دشمن نبیوں کے چیلنج کو قبول کرتے چلے آئے تھے اور وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تلوار اور تیر کے ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے۔اسلام کی خیر خواہی کا جواب ویسے ہی بلند اخلاق کے ذریعہ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ اور بد کلامی سے دینے کا اُنہوں نے فیصلہ کر لیا۔ایک دفعہ پھر دنیا میں کفر اور اسلام کی لڑائی شروع ہو گئی۔ایک دفعہ پھر شیطان کے لشکروں نے فرشتوں پر ہلہ بول دیا۔بھلا اُن مٹھی بھر آدمیوں کی طاقت ہی کیا تھی کہ مکہ والوں کے سامنے ٹھہر سکیں۔عورتیں بے شرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں۔مرد ٹانگیں چیر چیر کر مار ڈالے گئے ، غلام تپتی ہوئی ریت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹے گئے۔اس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے۔ایک مدت بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام خباب کی پیٹھ نگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یادگار ہے اُس وقت کی جب ہم نومسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روار کھے جاتے تھے اُسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔مؤمن غلاموں پر کفار مکہ کا ظلم و ستم یہ غلام جو سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلال ، رومی بھی تھے جیسے صہیب۔پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسے جیر اور صہیب۔اور مشرکین بھی تھے جیسے بلال اور عمار۔بلال کو اُس کے مالک تپتی ریت پر لٹاتی کر او پر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نو جوانوں کو سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے۔حبشی النسل بلال امیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔اُمیہ انہیں دو پہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ