انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 192

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۲ دیباچہ تفسیر القرآن مؤمنوں کی چھوٹی سی جماعت یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس سے اسلام کی بنیاد پڑی۔ایک عورت کہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ رہی 66 تھی ، ایک گیارہ سالہ بچہ، ایک جوان آزاد کردہ غلام، بے وطن اور غیروں میں رہنے والا جس کی پشت پر کوئی نہ تھا۔ایک نوجوان دوست اور ایک مدعی الہام۔یہ وہ چھوٹا سا قافلہ تھا جو دنیا کی میں نور پھیلانے کے لئے کفر و ضلالت کے میدان کی طرف نکلا۔لوگوں نے جب یہ باتیں سنیں اُنہوں نے قہقہے لگائے۔باہم دگر چشمکیں کیں اور نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جتایا کہ یہ لوگ مجنون ہو گئے ہیں ان کی باتوں سے متعجب نہ ہو، بلکہ سنو اور مزہ اُٹھاؤ۔مگر حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق حکم پر حکم حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون۔۱۹۳ ہوتا گیا۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ۱۹۴۷ء اور جنبی زبان ۱۹۵۷ء سے جس سے عرب پہلے نا آشنا تھے ، خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں سے باتیں کرنی شروع کیں۔نوجوانوں کے دل لرزنے لگے، صداقت کے متلاشیوں کے جسموں پر کپکپی پیدا ہوئی۔اُن کی ہنسی ٹھٹھے اور استہزاء کی آوازوں میں پسندیدگی اور تحسین کے کلمات بھی آہستہ آہستہ بلند ہونے شروع ہوئے۔غلاموں ، نوجوانوں اور مظلوم عورتوں کا ایک جتھا آپ کے گرد جمع ہونے لگ گیا۔کیونکہ آپ کی آواز میں عورتیں اپنے حقوق کی حفاظت دیکھ رہی تھیں۔غلام اپنی آزادی کا اعلان سن رہے تھے اور نوجوان بڑی بڑی اُمیدوں اور ترقیوں کے راستے کھلتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔رؤسائے مکہ کی مخالفت جب جنسی اور ٹھٹھے کی آوازوں میں سے تحسین اور تعریف کی آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئیں ، تو مکہ کے رؤساء و گھبرا گئے ، حکام کے دل میں خوف پیدا ہونے لگا۔وہ جمع ہوئے ، انہوں نے مشورے کئے ، منصوبے باندھے اور جنسی اور ٹھیٹھے کی جگہ ظلم و تعدی اور سختی اور قطع تعلق کی تجاویز کا فیصلہ کیا گیا اور کی اُن پر عمل ہونا شروع ہوا۔اب مکہ سنجیدگی سے اسلام کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔اب وہ ”پاگلا نہ دعویٰ ایک ترقی کرنے والی حقیقت نظر آ رہا تھا۔مکہ کی سیاست کے لئے خطرہ ، مکہ کے مذہب کے لئے خطرہ ، مکہ کے تمدن کے لئے خطرہ اور مکہ کے رسم و رواج کے لئے خطرہ دکھائی