انوارالعلوم (جلد 20) — Page 147
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴۷ دیباچہ تفسیر القرآن کیا کبھی کوئی شخص قادر کو بھی چھوڑا کرتا ہے؟ چوتھا نام ابدیت کا باپ ہے۔یہ نام بھی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جیسا کہ او پر ثابت کیا جا چکا ہے وہ خود اپنے بعد ایک مامور کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔پانچواں نام سلامتی کا شہزادہ ہے۔یہ نام بھی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوسکتا کیونکہ انہیں کبھی بادشاہت نصیب ہی نہیں ہوئی کہ اُن کے ذریعہ سے دنیا کو سلامتی ملی ہو وہ تو خود یہود۔دُکھ پاتے رہے، آخر پکڑے گئے اور صلیب پر لٹکائے گئے۔پس انہیں سلامتی کا شہزادہ کسی صورت میں بھی نہیں کہا جاسکتا۔پھر لکھا ہے اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی۔“ یہ بات بھی حضرت مسیح میں نہیں پائی جاتی۔نہ اُن کو سلطنت ملی نہ اُس کا اقبال اور سلامتی انہوں نے دیکھی۔اسی طرح لکھا ہے وہ داؤد کے تخت پر اور اُس کی مملکت میں آج سے لے کر ابد تک بند و بست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا“۔یہ بات بھی حضرت مسیح کو نصیب نہیں ہوئی۔یہ سب کی سب علامتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پائی جاتی ہیں۔آپ کے کندھے پر سلطنت رکھی گئی اور گو آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ بادشاہ ہوں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ آپ بادشاہ بننے پر مجبور ہو گئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حضرت مسیح تو باوجود اس کے کہ اُن کے پاس نہ کوئی حکومت تھی نہ طاقت پھر بھی بادشاہ کہلانے کے شوقین تھے جیسا کہ متی باب ۲۱ میں لکھا ہے:۔ر مسیح گدھے پر سوار ہو کر یروشلم میں داخل ہوا تا کہ جو نبی نے کہا تھا پورا ہو کہ صیہوں کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ فروتنی سے گدھی پر بلکہ گدھی کے بچہ پر سوار ہو کر تجھ پاس آتا ہے۔ا۱۵ اسی طرح متی باب ۲۷ آیت ۱۱ میں لکھا ہے:۔یسوع حاکم کے روبرو کھڑا تھا اور حاکم نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا ہاں تو ٹھیک کہتا ہے“۔لوقا باب ۲۳ میں لکھا ہے:۔