انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 146

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴۶ دیباچہ تفسیر القرآن پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں کوئی ایک بھی تو حضرت مسیح پر صادق نہیں آتی۔وہ کب بادشاہ ہوئے ؟ کب اُن کو عجیب۔مشیر۔خدائے قادر۔ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ کہا گیا ؟ عجیب تو شاید اُن کی پیدائش کے لحاظ سے اُن کو کہا بھی جا سکے گوایسا کہا نہیں گیا کیونکہ جوان کو نہیں مانتے تھے وہ تو اُن کی پیدائش کو نا جائز قرار دیتے تھے۔پس وہ انہیں ” عجیب نہیں قرار دے سکتے تھے اور جو مانتے تھے وہ اُن کی پیدائش کے متعلق مختلف شبہات میں تھے۔کوئی انہیں داؤد کی اولا د قرار دیتا تھا اور کوئی روح القدس کی۔دوسرا نام مشیر بتایا گیا ہے حضرت عیسی علیہ السلام کو مشیر ہونے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ساری انجیل میں دیکھ لوکسی ایک جگہ بھی انہوں نے اپنی قوم سے مشورہ نہیں لیا اور نہ انہوں نے اپنی قوم کو کوئی مشورہ دیا۔پھر وہ مشیر کس طرح کہلائے ؟ تیسرا نام خدائے قادر بتلایا گیا ہے۔مسیح تو ساری عمر ابن اللہ کہلاتے رہے۔وہ خدائے قادر کس طرح کہلا سکتے تھے؟ اور پھر مسیح تو انا جیل کے بیان کے مطابق پھانسی دے کر ماری دیا گیا تھا، ایسا انسان قادر کس طرح کہلا سکتا ہے۔انا جیل میں صاف آتا ہے کہ جب حضرت مسیح کی صلیب پر لٹکائے گئے تو یہودیوں نے اُن کو طعنہ دیا کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ۔چنانچہ لکھا ہے:۔یوں ہی سردار کاہنوں نے بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ ٹھٹھا مار کے کہا۔اس نے اوروں کو بچایا مگر آپ کو نہیں بچا سکتا۔اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پر سے اُتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے۔۱۴۸ حتی کہ وہ چور بھی حضرت مسیح کے ساتھ صلیب دیئے گئے تھے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بھی اُسے طعنے مارتے تھے۔۱۴۹ پس حضرت مسیح پر یہ حوالہ چسپاں نہیں ہوسکتا کیونکہ اُس کی قدرت نہ کبھی ظاہر ہوئی نہ لوگوں کی نے اُس کی قدرت کا کبھی اقرار کیا۔اُس کے دشمن بھی اُس کی قدرتوں کا انکار کیا کرتے تھے اور اُس کے دوست بھی اُس کی قدرتوں کے منکر تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو مسیح کے حواری اُس کو چھوڑ کر بھاگ کیوں جاتے ؟ جیسا کہ لکھا ہے:۔تب سب شاگر داُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔‘۱۵۰۰ 466