انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 106

انوار العلوم جلد ۲۰ 1+7 دیباچہ تفسیر القرآن کیا واہمہ پر رکھی ہوئی بنیاد روحانیت کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ سے اتھرووید کی اصلیت کے متعلق شبہ پیدا ہوتا چلا آیا ہے اور یجر دید اور رگ وید بھی اسی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ ادھر کے منتر اُڑا کر کسی نے اُدھر رکھ دیئے ہیں جہاں اس قدر گڑ بڑ ہو وہاں کوئی شخص قطعی طور پر یہ فیصلہ کس طر حکر سکتا ہے کہ فلاں منتر خدا کی طرف سے ہے اور فلاں منتر لوگوں کا داخل کردہ ہے۔اور جس کتاب کے متعلق ایسے شک وشبہات پیدا ہو چکے ہوں اُس پر دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کی بنیاد رکھی ہی کب جاسکتی ہے۔یقیناً جب کسی کتاب کی یہ حالت ہو جائے تو اس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت ہوگی جو انسانی دست برد سے پاک اور محفوظ ہو اور جس پر انسان یقین اور قطعیت کے ساتھ اپنے عقیدوں کی بنیا د رکھ سکے اور جس کے متعلق وہ ویسا ہی یقین رکھے جیسے اُسے سورج اور چاند بلکہ اپنے نفس کے وجود پر یقین ہے اور وہ کہہ سکے کہ اس کا لفظ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں اُس کی رہنمائی میں یقیناً خدا تعالیٰ کو پا سکتا ہوں اور اس ضرورت کو پورا کرنے والی کتاب قرآن کریم ہے۔ویدوں میں ظالمانہ احکام ا۔اتھرو دید کا نڈ نمبر ۴ سوکت ۲۲ منتر میں لکھا ہے:۔”اے ویدک دھرمی را جاؤ اور دوسرے ویدک دھرمیو! تم شیر جیسے بن کر رعیتوں کو کھا جاؤ اور چیتے جیسے بن کر اپنے دشمنوں کو باندھ کر جکڑ لو۔اس کے بعد اپنی مخالفت کرنے والوں کے کھانے تک اُٹھا لو۔“ ۲۔سام و ید ا تر آرچک پر پھاٹک گیارہ منتر میں لکھا ہے:۔”اے مخالف تم سر کٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جاؤ۔اس کے بعد پھر جو تم میں چیدہ چیدہ ہوں اُن کو اندر اور آگ دیوتا تباہ کریں۔۳۔سام و ید ا تر آرچک ادھیائے اا منترا میں لکھا ہے:۔”اے اندر دیوتا! ہمارا دیا ہوا سوم رس تجھے خوش اور متوالا کرے تو ہمیں