انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 70

اگر یہ ہو تا تو بھی ان لوگوں کو یہ غلطی نہ پڑتی اور یہ لوگ کبھی بھی اس کے قائل نہ ہوتے کیونکہ یہ بالکل سیدھا اور سادہ ہے اور پھر انسانی فطرت کے مطابق ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ پہلےمذہب بھی ناقص تھے اور کامل نہ تھے اس لئے اچھی طرح سے ان میں یہ عقیدہ بیان نہیں کیا گیا اور کسی دھوکے کی وجہ سے ہندو وغیرہ تنااسخ کے قائل ہو گئے اور میرے اس خیال کی تائید بدھ کا یہ عقیدہ بھی کرتا ہے کہ انسانوں کے چار درجہ میں ایک تو وہ جس میں کہ انسان بار بار تایخ کے پھیر میں آتا ہے اور دوسرا وہ جس میں کہ انسان صرف ایک دفعہ جون کے چکر میں آتا ہے اور تیسرا وہ جس میں ہو کر انسان کبھی نہیں لوٹتا اور چوتھا تیسرے کا کمال ہے یعنی بہت سے پاک لوگوں کا درجہ ٭اوریہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں میں بھی کچھ ایسی بات تھی جس کو کہ یہ تعلیم کے ناقص ہونے کی وجہ سے اچھی طرح ظاہر نہیں کر سکے اور آخر اسلام نے جو کہ کامل منذ ہب ہے اس کو انسان پر کھول دیا۔اور اس محبت کے تعلق کو جو کہ وہ خدا سے رکھتا تھا اس عقیدہ سے اور بھی بڑھا دیا۔بدھ کے اس مذکورہ بالا عقیدہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں تناسخ سے مراد وہ جونوں کا چکر نہیں جس کے یہ لوگ قائل ہیں کیونکہ جب ایک درجہ ایسا بھی رکھا گیا ہے جس درجہ کا انسان دوبارہ دنیامیں ایک دفعہ ہی آتا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ دوبارہ آنا روحانی ہے یا بالفاظ دیگر حالت کے تغیر کا نام ہے کیونکہ اگر در حقیقت انسان دنیا میں دوبارہ آئے تو پھر گناہ کرے گا کیونکہ اس کو معلوم تو ہے ہی نہیں کہ میں دنیا میں کسی گناہ کی سزا میں آیا ہوں پس پھروہ جونوں کے چکر میں آجائے گا مگر اس عقیدہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک دفعہ آئے گا زیادہ دفعہ نہیں پس یہ جسمانی تغیر نہیں بلکہ روحانی تغیر ہے لیکن جب اس درجہ پر انسان بن جاتا ہے تو صرف اس کو ایک جون بدلنی پڑتی ہے اور وہ نفس لوامہ کو چھوڑ کر نفس مطمئنہ کو اختیار کرتا ہے مگر صفائی کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ اگر بیان کیا ہے تو صرف اسلام نے ہی بیان کیا اور اسلام کو ہی فخر ہے اس بات کا کہ اس نے یہ رازانسانی مدارج کا دنیا پر ظاہر کیا اور وہ علم و معرفت اس عقیدہ میں بھر دی جس سے کہ دوسرےمذاہب بالکل کو رے تھے اور ان میں اس قدر کمال ہی نہ تھا کہ وہ اس کو دنیاپر ظاہر کر سکیں اور پھر یہ بھی تحقیق نہیں کہ آیا اس کے قریب قریب کوئی عقیدہ بھی ان میں تھا کہ نہیں کیونکہ اس پر کوئی تاریخی شهادت نہیں صرف میرا ایسا خیال ہے کہ بدھ کا تناسخ کے متعلق عقیدہ شاید اس کے ٭بدھ نے ایک اشٹانگ مارگ مقرر کیا ہے۔اس کے معنے ہیں کہ آٹھ قسم کی ریاضت روحانی و جسمانی اور یہ عقیده ای اشٹانگ مارگ سے نکلتا ہے۔