انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 71

قریب قریب ہو اور بوجہ تعلیم کے ناقص ہونے کے وہ دوسرے الفاظ اور دو سرے معنوں میں استعمال کیا گیا ہو جیسا کہ میں اوپر لکھ کے آیا ہوں۔بہرحال اسلام نے اس عقیدہ کو ایسے طریق اورایسےروشن پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ انسان کا ایمان تازہ ہو جاتاہے۔اب میں اپنے اصل مطلب کی طرف ہوتا ہوں اور وہ یہ کہ اسلام نے ہم کو اپنے عقیدہ کےمتعلق رہنمائی کی ہے جس سے کہ انسان بہت کچھ روحانی ترقی کر سکتا ہے اور وہ کمزوریاں اورنقائص جو کہ انسان میں بوجہ اس کے طبعی خاصہ کے ہوتے ہیں اس عقیدہ پر ایمان لانے اور اس کےمعارف پر غور کرنے سے خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔میں اس مسئلہ کے متعلق زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے امام و مرشد نے جلسہ مہوتسو کے موقعہ پر ایک لیکچر تحریر کیا تھااس میں خوب اچھی طرح اور واضح طور سے اس مسئلہ کو حل کیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ یہ مسئلہ سوائے اسلام کے اور کسی نے اس طرح نہیں بیان کیا کہ جس سے انسان ہدایت پا سکے اس لئے جوصاحب اس کی نسبت مفصل علم حاصل کرنا چاہیں وہ اس لیکچر کو پڑھیں۔اب میں خدا تعالیٰ کے متعلق اسلام کا عقیدہ بیان کرتا ہوں۔دیکھنا چاہیے کہ دنیا کا جو مذہب ہے (بشرطیکہ وہ خدا کا قائل ہو) اگر چہ خدا کے کتنے ہی شریک ٹھہراتا ہو مگر آخر توحید کا قائل ہوتاہے اور کسی نہ کسی طرح آخری نقطہ پر پہنچ کر وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خدا ایک ہے اس وقت کےمشہور مذاہب کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ان میں سے عیسائیت توحید کی سخت دشمن ہے مگر اس میں بھی یہ عقیدہ ہے کہ باپ بیٹاروح القدس تین خدا ہیں مگر نہیں تین نہیں ایک خدا ہے اور اس بات سےظاہر ہوتا ہے کہ اگر چہ انہوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی ان کو فطرت کے تقاضاسےمجبور ہو کر کوئی ایسا طریق ایجاد کرنا پڑا ہے جس سے توحید میں خلل نہ آۓ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوبھی باوجود کروڑوں بت ماننے کے اپنے آپ کو ایک ہی خدا کا قائل بتاتے ہیں اور یہودی اور آریہ بھی توحید کے عقیدہ پر ہی زور دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا عقیدہ انسان کی فطرت کے موافق ہے اور گو کہ امتداد زمانہ سے کسی مذہب میں کتناہی شرک ترقی کر جائے مگر پھر بھی اس کے پیرو توحید کو نہیں چھوڑتے اور ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں کہ توحید ہی در حقیقت سچ ہے اور وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں غلطی پر ہیں اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اسلام کے توحید پر کسی نےزور نہیں دیا اور نہ کسی مذہب نے توحید کا ثبوت دیا ہے۔عیسائی اگر ایک طرف توحید کے قائل ہیں تو ساتھ ہی تثلیث پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔یہودیوں نے اگر چہ توحید میں کوئی خرابی نہیں پیداکی