انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 639

دوسراامر عبادت کی غرض کے پورا کرنے کے لئے کن باتوں کی ضرورت ہے جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ نماز کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا اس کا شکر ادا کرنا اورنفس کی اصلاح کرنا ہے تو جس طریق عبادت سے یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہوں وہی عبادت سچی عبادت ہے۔اور اس عبادت کی طرف ہدایت کرنے والا مذہب ہی سچامذ ہب ہے۔اسلام نے اپنےپیرؤوں کے لئے جو طریق عبادت رکھا ہے اس میں ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے جو زریعےاستعمال کئے ہیں وہ اور کسی مذہب نے نہیں کئے اور ہر ایک انسان ذ راغورسے کام لے کر معلوم کرسکتا ہے کہ وہی ذرائع اس قابل ہیں کہ عبادت کی غرض کو پورا کر سکیں-وہ ذرائع یہ ہیں۔جسم و روح کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ ایک کا اثر دو سرے پر پڑتا ہے۔جس طرح غم کی خبر سن کرجسم ایسا متاثر ہوتا ہے کہ اس پر اداسی کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح جسم کو جب کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو روح بھی غمگین ہو جاتی ہے اور یہی حال خوشی کا ہے۔پس قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک یہ بھی طریق ہے کہ عبادت کے وقت جسم کو بھی کسی ایسی حالت میں رکھا جائے جس سے تذلل پیدا ہو اور اس کا اثر روح پر پڑ کردل میں بھی رقت اور نرمی پیدا ہوجائے اور انسان خدائے تعالیٰ کی طرف ایک جوش کے ساتھ متوجہ ہو جائے۔تذلل کے اظہار کےلئے دنیا میں مختلف صورتوں کو اختیار کیا گیا ہے کسی ملک کے لوگ جھک جاتے ہیں کسی ملک میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا تذلل کا نشان قرار دیا گیا ہے کسی میں گھٹنوں کے بل گرنے کو کسی میں سجدہ کرنےکو۔اسلام چونکہ خالق فطرت کی طرف سے ہے اس نے تمام فطرتوں اور عادتوں کا خیال رکھتےہوئے نماز میں ان سب نشانات کو جمع کر دیا ہے اور مختلف المذاق لوگ جس جس حالت میں بھی تذلل کا اظہار کرتے ہیں نماز ان کے مذاق کے مطابق ہے۔اور ان مختلف اشکال تذلل کے اثر سےانسانی قلب جوش سے بھر جاتا ہے۔اور خدائے تعالیٰ کے حضور میں جھک جاتا ہے۔درحقیقت وہ ایک قابل دید نظارہ ہو تا ہے۔جب ایک مسلمان رب العالمین خدا کے حضور کبھی ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے کبھی جھک جاتا ہے۔کبھی ہاتھ کھول کر کھڑا ہو جاتا ہے۔کبھی سجدہ میں گر جاتا ہے، کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور اس کا دل اس محبت سے پر ہوتا ہے جو ایک مخلوق کو خالق سے ہو سکتی ہے