انوارالعلوم (جلد 1) — Page 638
ایک بہت بڑی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے اس کے احسانوں کا اپنی زبان سے اقرار کرتا رہے۔مگر اس کے علاوہ عبادت کی ایک اور بھی غرض ہے اور وہ گناہوں اور بدیوں سے پاک کرناہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانی عبادتوں کا محتاج نہیں بلکہ جس قدر احکام اس نے انسان کو دیئے ہیں ان میں اصل غرض اس کا پاک کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ ناپاک سے تعلق نہیں رکھ سکتااور پسند فرماتا ہے کہ اس سے تعلق کرنے والا بھی پاک ہو پس تمام عبادات میں یہ مد نظر رکھا گیاہےکہ ان سے نفس انسانی بدیوں اور شرارتوں سے پاک ہو اور ان کے ذریعہ اسے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ مختلف قسم کی ہوا و ہوس کو چھوڑنے کے قابل ہو جائے اور ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس کے تعلقات درست ہو جائیں اور دوسری طرف مخلوق الہٰی سے بھی اس کے معاملات بالکل ٹھیک ہوں۔چنانچہ اسلام نے مذہب کی تعریف ہی یہی کی ہے کہ وہ بندہ کے خدائے تعالیٰ سےتعلقات کو مضبوط کرتا ہو اور بندوں سے اس کے تعلقات کو سنوارتا ہو۔اور اگر کوئی مذہب ان دونوں باتوں میں سے ایک کے پورا کرنے سے بھی قاصر ہے تو وہ مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سےمذہب کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔پس جس قدر عبادات مقرر کی جاتی ہیں ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ بندہ کو خدا تعالیٰ کے نزدیک کردیا جائے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت پیدا کی جائے اورجو عبادت ان دونوں باتوں کے حصول کے ذرائع پیدا کرے وہی مفید عبادت ہے ورنہ اس میں مشغول ہو اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے۔قرآن شریف نے اس مضمون کو یوں اداکیا ہے۔ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر (النكبوت : ۷۶) نماز بدیوں اور گناہوں سے روکتی ہے یعنی عبادت کی غرض کو پورا کرتی ہے۔