انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 622

اس انکسار کے سا تھ پیش آتاتھا،وہ جوانوں کے سا تھ کس انکسار کے سا تھ معاملہ کر تا ہو گا اور اس کا نفس خودی اور تکبر سے کس حد تک پاک ہو گا۔میں اس امر کی اوربہت سی مثالیں پیش کر تا لیکن چونکہ میں نے اس کتاب میں صرف ان مثالوں سے آپ ؐکی سیرت پر روشنی ڈالنے کا ارادہ کیا ہے جوبخاری میں پا ئی جا تی ہیں اس لیے اس وقت اسی مثال پر اکتفا کر تا ہوں۔شروع سے ہی آپؐ کی طبیعت ایسی تھی۔آپ ؐ کی منکسرانہ طبیعت کے متعلق جو مثال میں نے د ی ہےشاید اس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ گو امراء اس منکسر انہ طبیعت کےنہیں ہوتے لیکن چونکہ علاوہ بادشاہت کے آپؐ کو نبوت کا بھی دعویٰ تھا اور نبوت کے لیے ضروری ہے کہ انسان ہر قسم کے لوگوں سے تعلق رکھے اس لیے ممکن ہے کہ نعوذ باللہ آپؐ تکلف سے ایسا کر تے ہوں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ اعتراض درست ہے لیکن رسول کریم ﷺ پرنہیں پڑ سکتا اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تکلف کی بات ہمیشہ عارضی ہو تی ہے تکلف سے انسان جو کام کر تا ہے اس پر سے کسی نہ کسی وقت پردہ اٹھ جا تا ہے لیکن جیسا کہ پہلی مثال سے ثا بت ہے۔آنحضرت ﷺ ہمیشہ ایک ہی بات پر قائم رہے اور ایک شخص،جو دس سال رات دن برابر آپ ؐ کے سا تھ رہا،گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ منکسر انہ معاملہ کر تے تھے تو اب اس میں شک کی کو ئی گنجائش نہیں رہ جاتی لیکن اس مثال کے علاوہ ایک اَور مثال بھی بخاری سے معلوم ہو تی ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ آپ ؐ کی منکسرا نہ طبیعت ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نتیجہ تھی جن پر آپؐ قائم تھے نہ کہ بناوٹ کا جیسا کہ آپؐ کے دشمن کہتے ہیں اور وہ ایک ایسے وقت کی بات ہے جبکہ آپ ؐ نے ابھی دعویٰ بھی نہ کیا تھا۔پس اس وقت بھی آپؐ کا انتہا درجہ کا منکسر المزاج ہو نا ثابت کر تا ہے کہ آپ ؐ کے تمام کام اس دلی پاکیزگی کا نتیجہ تھے جس نے آپؐ کو کسی زمانہ میں بھی نہیں چھوڑا۔