انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 621

بڑھ کر سلام کرےبلکہ آپؐ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپ ؐ ہی پہلے سلام کہیں۔اس کے متعلق میں اس جگہ ایک ایسے شخص کی گواہی پیش کر تا ہوں جس کو آپؐ کی مدینہ کی زندگی میں برابر دس سال آپؐ کے سا تھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔میری مراد حضرت انسؓ سے ہے جن کورسول کریم ﷺنے مدینہ تشریف لا نے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپ ؐ کی وفات تک برابر آپؐ کی خدمت میں رہے۔ان کی نسبت امام بخاری ؒ روایت کر تے ہیں: عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ :اَنَّہٗ مَرَّ عَلٰی صِبْیَانٍ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ،وَقَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُہٗ(بخاری کتاب الاستئذان باب التسلیم علی الصبیان) یعنی حضرت انس ؓ ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپ ؓنے ان کو سلام کہا اور پھر فر ما یا کہ آنحضرت ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپؐ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے۔تو ان کو سلام کہا کر تے تھے ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید ایک معمولی سی بات ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کر نے کا عادی ہووہ اس شہادت سے رسول کریم ﷺ کی منکسر انہ طبیعت کے کمال کو معلوم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔امراء کے لیے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے او رممکن ہے کہ کبھی کبھار کو ئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔پھر بچوں کو سلام میں ابتداکر نا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کر نا بالکل محال ہے اور امراء کو بھی جا نے دو۔کتنے بالغ وجو ان انسان ہیں جوباوجود دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتداء کر نے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پا تے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کہتے تھے۔شاید ایسا آدمی جو اس پر تعہدسے قائم ہو اورہمیشہ اس پرعمل کرتاہو ایک بھی نہ ملےگالیکن رسول کریمؐ کی نسبت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جیسےواقف کارصحابی جو ہروقت آپ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپؐ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو اُن کو سلام کہتے تھے۔اس شہادت میں آپ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے اول یہ کہ آنحضرت ﷺ انکسار کے اس اعلیٰ درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپؐ کو عار نہ تھا۔دوم یہ کہ آپؐ ان کو سلام کہنے میں ابتداء کر تے تھے۔سوم یہ کہ ایک یادو دفعہ کی بات نہیں آپؐ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔اب اس شہادت سے ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بچوں کے ساتھ