انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 498

تھا کہ ان کے لیے کسی سامان کے مہیا کر نے کی مجھے ضرورت ہے اس لیے آپؐ نے اپنی اولاد کے لیے اس رقم میں سے کو ئی حصہ ہی مقرر نہ کیا۔اللہ اللہ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جن لو گوں کے ہاتھوں میں حکومت ہو تی ہے وہ کو شش کر تے ہیں کہ کسی طرح اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لیے کچھ سامان کر جائیں لیکن آپؐ نے نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی اولاد کے لیے زکوٰۃ میں سے کوئی حصہ نہ مقرر کیا بلکہ ان کو بھی خدا پر توکل کر نے کا سبق سکھایا اور انہیں حکم دے دیا کہ تمہارے لیے اس مال سے فائدہ اٹھا نا ہی نا جائز ہے۔زکوٰۃ کے علاوہ لوگ اپنے پاس سے صدقات دیتے ہیں ممکن تھا کہ سا دات کو وہ اس میں شریک کر لیتے لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو اسی توکل کا سبق دینا چاہا کہ اسے صدقات سے بھی محروم کر دیا اور زکوٰۃ و صدقہ دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد کے لیے زکوٰۃ و صدقہ لینا ناجا ئز ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہےکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤْتٰی بِا لتَّمَرِعِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَیَجِیْئُ ھٰذَا بِتَمَرِہٖ وَھَذَا مِنْ تَمَرِہٖ حَتّٰی یَصِیْرَ عِنْدَہٗ کَوْمًا مِنْ تَمرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا یَلْعَبَانِ بِذٰلِکَ التَّمرِ فَاَخَذَا اَحَدُھُمَا تَمْرَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ فِیْہِ فَنَظَرَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَخْرَجَھَا مِنْ فِیْہِ فَقَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا یَاْ کُلُوْنَ الصَّدَقَۃَ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اخذ صدقۃ التمر عند صرام النخل) کھجور کے کٹنے کے وقت رسول کریم ﷺ کے پاس کھجور یں لا ئی جاتی تھیں۔ہر ایک اپنی اپنی کھجوریں لا تا تھا اور رسول کریم ﷺ کے آگے رکھ دیتا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس ایک ڈھیر ہو جا تا۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ان کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔پس ان کی طرف رسول کریمؐ نے دیکھا اور کھجور ان کے منہ سے نکال دی اور فر ما یا کہ تجھے علم نہیں کہ آل محمدؐ صدقہ نہیں کھا یا کر تے۔اللہ اللہ کیسی احتیاط ہے۔کیا ہی توکل ہے ایک کھجور بچے نے منہ میں ڈال لی تو اس میںحرج نہ تھا۔لیکن آپؐ کا توکل ایسا نہ تھا جیسا کہ عام لوگوں کا ہو تا ہے۔آپؐ چاہتے تھے کہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں وہ ایمان اور توکل پیدا کر دیں کہ بڑے ہو کر وہ کبھی صدقات کی طرف تو جہ نہ کریں اور خدا کی ہی ذات پر بھروسہ رکھیں۔