انوارالعلوم (جلد 1) — Page 497
وَرَبُّ الْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْم (بخاری جلد 2کتاب الدعوات باب الدعا عند الکرب ) کو ئی معبود نہیں سوائے اللہ کے وہ رب ہے بڑے تخت حکومت کا۔اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔وہ آسمانوں کا رب ہے وہ زمین کا رب ہے۔وہ بزرگ تخت کا رب ہے۔(یعنی میرا بھروسہ اور توکّل تو اسی پر ہے) اپنی اولاد کو صدقہ سے محروم کر دیااسلام کے عظیم الشان احکام میں سے زکوٰۃ اور صدقہ کے احکام ہیں۔ہر مسلمان پر جس کے پاس چالیس سے زائد روپے ہوں اور ان پر سال گزر جا ئے فرض ہے کہ ان میں سے چالیسواں حصہ وہ خدا کی راہ میں دے دے۔یہ مال محتا جوں اور غریبوں پر خرچ کیا جاتاہے اور وہ لوگ جو کسی سبب سے اپنی حوائج کو پورا کر نے سے قاصر ہوں اس سے فائدہ اٹھا تے ہیں یا ابناء السبیل کو مدددی جاتی ہے۔اس کے محصلوں کی تنخواہ بھی اس میں سے ہی نکلتی ہے غرض کہ محتاجوں کی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے شریعت اسلام نے یہ قاعدہ جا ری کیاہے اور اس میں بہت سے ظاہری اور با طنی فوائدمدّ نظر ہیں لیکن اس کا ذکر بے موقع ہے۔زکوٰۃ کے علا وہ جو ایک وقت مقررہ پر سر کار کے خزانہ میں داخل ہو کرغرباء میں تقسیم کیے جا نے کا حکم ہے صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہر ایک ذی استطاعت کو مناسب ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے غریب بھا ئیوں کی د ستگیری کرے اور حتی الوسع ان کی امداد میں دریغ نہ کرے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور بعد میں بھی جب تک اسلامی حکومت رہی چونکہ زکوٰۃ باقاعدہ وصول کی جا تی تھی اس لیے ایک کثیر رقم جمع ہو جا تی تھی اور خزانہ شاہی کی ایک بہت بڑی مد تھی اور اگر رسول کریمﷺ چاہتے تو اپنی اولاد کے غرباء کا اس رقم میں سے ایک خاص حصہ مقرر کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سادات ہمیشہ غربت سے بچ جا تے اور افلاس کی مصیبت سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جا تےلیکن رسول کریم ؐ کے سینہ میں وہ دل تھا جو توکّل علی اللہ سے پر تھا اور آپؐ کی تو جہ غیراللہ کی طرف پھر تی ہی نہ تھی۔اس قدر رقم کثیر خزانہ میں آتی تھی اور تھی بھی غرباءکے لیے۔کسی کا حق نہ تھی کہ اس کی تقسیم ظلم سمجھی جا تی۔ایسی حالت میں اگرآپؐ اپنی اولاد کے لیے بصورت غربت ایک حصہ مقرر کر جا تے تو یہ بات نہ لوگوں کے لیے قابل اعتراض ہو تی اور نہ کسی پر ظلم ہو تا۔لیکن وہ با غیرت دل جو آپؐ کے سینہ میں تھا اور وہ متوکل قلب جو آپ رکھتے تھے کب برداشت کر سکتا تھا کہ آپؐ صدقہ و زکوٰۃ پر اپنی اولاد کے لیے صورت گزارہ مقرر کر تے۔پھر آپؐ کو تو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ان کا متکفّل ہو گا او ر خود ان کی مدد کرے گا۔آپؐ کے دل میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں آسکتا