انوارالعلوم (جلد 1) — Page 476
اِثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا فَاَصَا بُوْ امِنَّا سَبْعِیْنَ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُہٗ اَصَابَ مِنَ الْمُشْرِ کِیْنَ یَوْمَ بَدْرٍاَرْ بَعِیْنِ وَمِائَۃَ سَبْعِیْنِ اَسِیْرًا وَسَبْعِیْنَ قَتِیْلًا فَقَالَ اَبُوْ سُفْیَانَ اَفِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَنَھَاھُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّجِیْبُوْہُ ثُمَّ قَالَ اَفِی الْقَوْمِ اِبْنُ اَبِیْ قَحَا فَۃَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اَفِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّا بِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖ فَقَالَ اَمَّا ھٰؤْلٓاَ ءِ فَقَدْ قُتَلُوْ فَمَا مَلَکَ عُمَرُ نَفْسَہٗ فَقَالَ کَذَبْتَ وَاللہِ یَاعَدُوَّ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ عَدَدْتَ لَاَحْیَآءٌ کُلُّھُمْ وَقَدْ بَقِیَ لَکَ مَایَسُوْ ءُ کَ قَالَ یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ اِنَّکُمْ سَتَجِدُوْنَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃً لَمْ اٰمُرْبِھَاوَلَمْ تَسُؤْنِیْ ثُمَّ اَخَذَ یَرْتَجِزُ اُعْلُ ھُبَلْ اُعْلُ ھُبَلْ قَالَ النّبِیُّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا تُجِیْبُوْ الَہٗ قَالُوْ ایَارَسُوْلَ اللہِ مَا نَقُولُ قَالَ قُوْلُوْ اللہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ قَالَ اِنَّ لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ فَقَالَ النَّبِیُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا تُجِیْبُو الَہٗ قَالُوْ ایَارَسُوْلَ اللہِ مَا نَقُوْلُ قَالَ قُوْلُوْ ااَللہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلیٰ لَکُمْ(بخاری کتاب الجھاد باب مایکرہ من التنازع والا ختلاف فی الحرب)یعنی رسول کریم ﷺ نے پیا دہ فوج کے پچاس آدمیوں پر احد کے دن عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہٗ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ ہمیں جانور اچک رہے ہیں تب بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہلنا جب تک تم کو میں کہلا نہ بھیجوں۔اور اگر تم یہ معلوم کر لو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے اور ان کو مسل دیا ہے تب بھی اس وقت تک کہ تمہیں کہلا نہ بھیجا جائے اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔اس کے بعد جنگ ہو ئی اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی۔حضرت براءؓ فرما تے ہیں خدا کی قسم میں دیکھ رہا تھا کہ عورتیں کپڑے اٹھا اٹھا کر بھاگ رہی تھیں اور ان کی پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں اس بات کو دیکھ کر عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھیوں نے کہا کہ اے قوم ! غنیمت کا وقت ہے غنیمت کا وقت ہے۔تمہارے سا تھی غالب آگئے پھر تم کیا انتظار کر رہے ہو اس پر عبداللہ بن جبیر ؓ نے انہیں کہا کہ کیا تم رسول کریمﷺ کا حکم بھول گئے ہو۔انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ! ہم بھی سا ری فوج سے مل کر غنیمت حاصل کریں گے۔جن لشکر سے آکر مل گئے تو ان کے منہ پھیرے گئے اور شکست کھا کر بھا گے اسی کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہو ئی ہے کہ یا دکرو جب رسول تم کو پیچھے کی طرف بلا رہا تھا اور رسول کریم ﷺ کے سا تھ سوائے بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا اس وقت کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کا نقصان کیا اور رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ نے جنگ بدر میں کفار کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔سترّ قتل ہوئے تھے اور ستر قید کیے گئے