انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 475

مومن انسان کا کام اس کے بالکل بر خلاف ہو نا چاہیے اور اسے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اپنے معاملات میں دکھانا چاہیے اور حتّی الوسع کوشش کر نی چاہیے کہ بہت سے موقعوں پر چشم پو شی سے ہی کام لے اور جب تک عفو سے کام نکل سکتا ہو اور اس کا خراب نتیجہ نہ نکلتا ہو اسے ترک نہ کرے لیکن دین کے معاملہ میںقطعًا بے غیرتی کا اظہار نہ کرے اور ایسے تمام مواقع جن میںدین کی ہتک ہو تی ہوان سے الگ رہے اور ایسی تمام مجلسوں اور صحبتوں سے پر ہیز کرے کہ جن میں دین کی ہتک اور اس سے ٹھٹھا ہو تا ہو اور دین پر جس قدر اعتراض ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کر تا تو معلوم ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدوسیت قائم کرنے کی نسبت اپنے نفس پر اعتراضات دور کرنے کے لیے زیا دہ کو شاں رہتا ہے اور جتنا اسے اپنی صفا ئی کا خیال ہے اتنا خدا تعالیٰ اور دینِ حق کی تنزیہہکا خیال نہیں۔رسول کریم ﷺکی زندگی اس معاملہ میں بھی عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور آپؐ بجائے اپنے نفسانی معاملات اور ذاتی تکالیف پر اظہار غضب و غصہ کے نہایت ملائمت اور نرمی سے کام لیتے اور اگر کو ئی اعتراض کر تا تو اس پر خاموش رہتے اور جب تک خاموشی سے نقصان نہ پہنچتا ہو کبھی ذبّ اعتراضات کی طرف توجہ نہ کر تے مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں آپؐ بڑے با غیرت تھے اور یہ کبھی برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کو ئی شخص اللہ تعالیٰ کی ہتک کرے اور جب کو ئی ایسا موقع پیش آتا آپؐ فوراً اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتے یا اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے احکام سے لا پر واہی کر تا تو اسے سخت تنبیہ کر تے۔حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فر مایا کہجَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الرِّ جَالَۃِ یَوْمَ اُحُدٍ وَکَا نُوْ اخَمْسِیْنَ رَجُلًا عَبْدَاللہِ بْنَ جُبَیْرٍ فَقَالَ اِنْ رَاَیْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ فَلَاتَبْرَحُوْامَکَانَکُمْ ھٰذَا حَتّٰی اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ وَاِنْ رَاَیْتُمُوْنَا ھَزَمْنَا الْقَوْمَ وَاَوْطَأْنَا ھُمْ فَلَاتَبْرَحُوْ احَتّٰی اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ فَھَزَمُوْ ھُمْ قَالَ وَاَنَا وَاللہِ رَاَیْتُ النِّسَآءَ یَشْتَدِدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُھُنَّ وَاَسْوُ قُھُنَّ رَافِعَاتٍ ثِیَابَھُنَّ فَقَالَ اصْحَابُ عَبْدُاللہِ بْنِ جُبَیْرٍ اَلْغَنِیْمَۃَ اَیْ قَوْمِ الْغَنِیْمَۃَ ظَھَرَ اَصْحَابُکُمْ فَمَا تَنْتَظِرُوْنَ فَقَالَ عَبْدُاللہِ بْنُ جُبِیْرٍ اَنَسِیْتُمْ مَاقَالَ لَکُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوْ وَاللہِ لَنَاْتِیَنَّ النَّاسِ فَلَنُصِیْبَنَّ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ فَلَمَّا اَتَوْھُمْ صُرِفَتْ وُجُوْھُھُمْ فَاَقْبَلُوْ امُنْھَزِمِیْنَ فَذٰکَ اِذْ یَدْعُوْھُمُ الرَّسُوْلُ فِی اُخْرَاھُمْ فَلَمْ یَبْقَ مَعَ النَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرُ