انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 467

یہیں مارے جا ئیں گے چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔جس جگہ پر عذاب آچکا ہو وہاں آپؐ نہ ٹھہرتےرسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اس قدر خائف تھے اور اس کا تقویٰ آپؐ کے دل میں ایسا مستولی تھا کہ نہ صرف آپؐ ایسے افعال سے محفوظ تھے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو اور نہ صرف لوگوں کو ایسے افعال میں مبتلا ہو نے سے رو کتے تھے بلکہ آپؐ ان مقامات میں ٹھہرنا برداشت نہ کر تے تھے جس جگہ کسی قوم پر عذاب آچکا ہو۔اور ان واقعات کو یاد کرکے ان افعال کو آنکھوں کے سامنے لا کر جن کی وجہ سے وہ عذاب نازل ہو ئے آپؐ اس قدر غضب الٰہی سے خوف کر تے کہ اس جگہ کا پانی تک استعمال کر نا آپؐ مکروہ جا نتے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ اَمَرَ ھُمْ اَنْ لَّا یَشْرَبُوْامِنْ بِئْرِ ھَا وَلَا یَسْتَقُوْامِنْھَا فَقَالُوْ اقَدْعَجَنَّا مِنْھَا وَاسْتَقَیْنَا فَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّطْرَحُوْ اذٰلِکَ الْعَجِیْنَ وَیُھْرِیْقُوْاذٰلِکَ الْمَآء۔(بخاری کتا ب بدء الخلق باب قول اللہ تعالی عز وجل والی ثمو دا خاھم صالحا) جب آنحضرت ﷺ غزوۂ تبوک کے موقع پر مقام حجر پر اترے آپؐ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی نہ پیئیںاور نہ پا نی بھریں۔یہ حکم سن کر صحابہ ؓنے جواب دیا کہ ہم نے اس پا نی سے آٹا گوند ھ لیا ہے اور پا نی بھر لیا ہے۔آپؐ نے حکم دیا کہ اس آٹے کو پھینک دو اور اس پا نی کو بہادو۔اس خوف الٰہی کو دیکھو اور دنیا کے سب راستبازوں کی زندگیوں کا اس پا ک نبی ؐ کی زندگی سے مقابلہ کرو کہ اس میں خوف الٰہی کس قدر زیادہ تھا۔آپﷺ اپنے اعمال پر بھرو سہ نہ کر تےپہلے میں ذکر کر چکا ہوںکہ آنحضرت ﷺاپنی نسبت فرما تےتھے کہ وَمَا اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ میںنہیں جانتا کہ میرے سا تھ کیا کیا جا ئے گا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ آپؐ کبھی اس بات کا دعویٰ نہ کر تے کہ اپنے اعمال کے زور سے جنت کے وارث بن جائیں گےبلکہ ہمیشہ یہی تعلیم دیتے کہ خدا کے فضل سے جو کچھ ملے گا ملے گا اور اپنی نسبت بھی یہی فرما تے کہ میری نجات بھی خدا کے ہی فضل سے ہو گی۔حضرت ابوہریرہؓ سےروایت ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَنْ یُّدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِفَضْلِہٖ وَرَحْمَتِہٖ فَسَدِّدُوْاوَقَارِبُوْاوَلَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُ کُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَّا اِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَسْتَعْتِبَ (بخا ری کتاب المرضیٰ باب نھی تمنی المریض الموت)فرما تے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو ایک دفعہ یہ