انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 466

کو بھی بہشت دلا تے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کی حالت پر رحم کرے اور ہمیں اس پا ک رسول ؐکی اطاعت کی توفیق دے کہ اس کے بغیر نجات نہیں۔بدر کا واقعہبدر کے موقع پر آنحضرت ﷺ سے جو ظہور میں آیا وہ بھی چشم بصیرت رکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر نے کے لیے کا فی ہے اور اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ ؐکے دل میں اللہ تعالیٰ کا کس قدرخوف تھا۔جنگ بدر کے موقع پر جبکہ دشمن کےمقابلہ میں آپؐ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر پڑے ہوئے تھے تائید الٰہی کے آثار ظاہر تھے۔کفار نے اپنے قدم جمانے کے لیے پختہ زمین پر ڈیرے لگا ئے تھے اور مسلمانوں کے لیے ریت کی جگہ چھوڑی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کرکفارکے خیمہ گاہ میں کیچڑہی کیچڑکردیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہوگئی۔اس طرح اَور بھی تائیدات سماوی ظاہر ہورہی تھیں لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کاخوف آنحضرت ﷺ کے دل پر ایسا غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غناء کو دیکھ کر گھبراتے تھے اوربے تاب ہو کر اس کے حضور میں دعا فر ما تے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فر ما تے ہیں کہ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ فِیْ قُبَّۃٍ اَللَّھُمَ اِنّیْ اَنْشُدُکَ عَھَدَکَ وَوَعْدَکَ اللّٰھُمَّ اِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدُ بَعْدَ الْیَوْمِ فَاَخَذَا اَبُوْ بَکْرٍ بِیَدِہٖ فَقَالَ حَسْبُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدْ اَلْحَحْتَ عَلٰی رَبِّکَ وَھُوَ فِی الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَھُوَ یَقُوْلُ سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَ لُّوْنَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُ ھُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدھٰی وَاَمَرُّ(بخاری کتاب الجھاد باب ما قیل فی درع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم )نبی کریم ؐ جنگ بدر میں ایک گو ل خیمہ میں تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے خدا ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدے یاد دلا تا ہوں اور ان کے ایفا ء کا طالب ہوں۔اے میرے رب اگر تو ہی (مسلمانوں کی تباہی)چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کر نے والا کو ئی نہ رہے گا۔اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! بس کیجئے آپؐ نے تو اپنے رب سے دعا کرنے میں حد کر دی۔رسول کریم ﷺ نے اس وقت زرہ پہنی ہوئی تھی آپؐ خیمہ سے با ہر نکل آئے اور فر ما یاکہ ابھی ان لشکروں کو شکست ہو جا ئے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جا ئیں گے بلکہ یہ وقت ان کے انجام کا وقت ہے اور یہ وقت ان لوگوں کے لیے نہایت سخت اور کڑوا ہے۔اللہ اللہ ! خوف خد اکا ایسا تھا کہ باوجود وعدوں کے اس کے غنا ء کا خیال تھا لیکن یقین بھی ایسا تھا کہ جب حضرت ابوبکر ؓنے عرض کی تو بآواز بلند سنادیا کہ میں ڈرتا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مجھے علم ہو چکا ہے کہ دشمن شکست کھا کر ذلیل و خوار ہو گا اور ائمۃ الکفر