انوارالعلوم (جلد 1) — Page 448
اور تیسرے ماخذکی بجا ئے دوسرے ما ٔخذ کو اختیار کیا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کسی وقت قرآن شریف سے بھی آنحضرت ﷺ کی سیرت لکھنے کا ارادہ ہے لیکن چو نکہ اختصار اور صرف اعلیٰ درجہ کی روایات کا درج کر نا ہی مقصود ہے اس لیے احادیث میں سے بھی میں نے صرف بخاری کو چنا ہے اور یہ مختصرسیرت صرف بخاری جیسی معتبر کتاب سے لی ہے اور اس کے سوا کسی اَور حدیث سے مدد نہیں لی۔باوجود اس کےکہ صرف بخا ری کی احادیث سے جو اَصَحُّ الکُتُب ہے میں نےیہ سیرت اختیار کی ہے پھر بھی اختصارپراختصار سے کام لیا ہے اور اس کو صرف رسول کریمﷺ کی سیرت کا ایک باب سمجھنا چاہیے ورنہ اس بحربے کنار کو عبور کر نا تو کچھ آسان کام نہیں۔چونکہ پیاروں کی ہر ایک بات پیاری ہو تی ہے اور ان کی شکل و شباہت،چال ڈھال اور لباس وخورونوش کا طریق بھی دلکش اور محبت افزا ہو تا ہے اس لیے ابتدا میںمَیں انہی با توں کوبیان کروں گا۔سیرت کے سا تھ اگر صورت اور عادات بھی مل جاویں تو وہ آدمی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔