انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 447

بسم اللہ الر حمٰن الرحیم نحمدہٗ و نصلّی علیٰ رسولہٖ الکریم تمہید تا ریخ کے بڑے بڑے پہلوؤں میں سے ایک بہت بڑا پہلو تا ریخ بنانے والوں کا حال بھی ہو تا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگ تھے۔اگر تاریخی واقعات ہمیں یہ علم دیتے ہیں کہ فلاں فلاں با توں کا انجام نیک یا بد نکلتا ہے۔تو تاریخ کے بنانے والوں کی سیرت ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ کس قسم کی سیرت کے لوگوں سے کیسے کیسے واقعات سرزَد ہو تے ہیں اس لیے تا ریخ اسلام کے باب میں سب سے پہلے میں نےیہی مناسب سمجھا ہے کہ تاریخ اسلام کے با نی کی سیرت بیان کروں کہ جس پر سب مسلمان جا ن و دل سے فدا ہیں اور جس کی نسبت خود اللہ تعالیٰ فر ماتاہے کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب:22) پس تا ریخ اسلام کو پڑھ کر جو نتا ئج انسان نکال سکتا ہے اورجو جو فوائد اس سے حاصل کر سکتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اس پا ک انسان کی سیرت پر غور کر کے نفع اٹھا سکتا ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے لکھنے کے مختلف طریق ہیں۔اوّل تو یہ کہ عام تا ریخوں سے لکھی جا وے۔دوسرے یہ کہ احادیث سے جمع کی جا وے۔تیسرےیہ کہ قرآن شریف سے اقتباس کی جاوے۔پہلاما ٔخذ تو بہت ادنیٰ ہے کیونکہ اس میں دوست دشمن کی را ئے کی تمیز کر نا ایک مشکل بلکہ محال کام ہے۔دوسرا ما ٔخذیعنی حدیث سے واقعات کا جمع کر نا زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ مؤرّخین کی طرح محّدثین ہر ایک سنی سنائی بات کو نہیں لکھ دیتے بلکہ روایت کو آنحضرت ﷺتک برابر چلا تے ہیں اور پھر روایت کر نے والوں کے چال چلن کو خوب پر کھ کر ان کی روایت نقل کر تے ہیں۔تیسرا طریق قرآن شریف سے آنحضرت ﷺ کی سیرت لکھنے کا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ ، اکمل اور تمام نقصوں سے پاک ہے لیکن یہ کام بہت ذمہ دا ری کا ہے اس لیے سر دست میں نے پہلے