انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 405

سوال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ۔جب کسی پادری سے مباحثہ ہو۔جب یہ سوال ہوکہ اسلام میں دو سرے مذہبوں سے کیا امتیاز ہے تو اس کا جواب دینے کے لئے صرف یہی جماعت جرأت کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔اور اس کا ہر ایک فرد بتا سکتا ہے کہ اسلام کا دارو مدار قصے اورکہا نیوں پر نہیں بلکہ اس وقت بھی وہ وہی نشان د کھا سکتا ہے جو اگلے انبیاء ؑو اولیاء نے اپنےصدق کے ثبوت میں دکھائے۔آخر یہ سب کچھ کس مرد ِخدا کی قوت قدسیہ کے طفیل ہے اس کے جو مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ(الصف: ۷)۔الایہ – ویسمّی باسم نبیکم (سنن ابی داؤدجلد سوم کتاب المہدی صفحہ۷ ۳۲) کی پیشگوئی کے مطابق احمد ؑکے نام سے نبی کریم اﷺکا ایک غلام بن کر آیات بینات کے ساتھ آیا۔ان آیات بینات میں سے ایک یہ ہے کہ ولو تقول علينا بعض الأقاويل لاخذنا منہ باليمين ثم لقطعنا منه الوتين - (الحاقہ : ۴۷،۴۵) کہ اگر ہم پر افتراء کرے تو دائیں ہاتھ سےگرفت کر کے رگ جان کاٹ دیں۔آپ کا الہام بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ء کا ہے-۱۹۰۸ء تک آپ اپنے دعوے پر مؤکد قسموں کے ساتھ قائم رہے۔اور اتنی مدت میں کامیابی پر کامیابی دیکھی کیا کوئی مفتری ہو کر یہ فلاح پاسکتا ہے۔کیا اتنے مال جو نزول قرآن کےزمانہ ۲۳ سال سے بھی بہت زیادہ ہے ہر روز نئے سے نئے افتراء کر کے دعوےٰ نبوت و رسالت کے ساتھ کبھی کوئی شخص کامیابی کے ساتھ زندہ رہا ہے کیا تاریخ کوئی نظر پیش کر سکتی ہے؟ ہرگزنہیں اگر ایسا ہو تو جھوٹے اور سچے نبیوں میں امتیازہی اٹھ جائے۔ایک معمولی دنیاوی سلطنت میں جس کے اختیار اور علم و اخبار کاذریعہ بہت ہی محدود ہے۔کوئی جعلی تحصیل دار بن کر سکھ نہیں پا سکتا توخد اکی گورنمنٹ میں کوئی مصنو عی پیغمبر کب سکھ پا سکتا ہے۔سوچنے کی بات ہے۔(دوم) پھر دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس کی اپنے رسل و انبیاء ؑکے ساتھ سنتِ جاریہ ہے۔آپؑ پر اس کثرت و صفائی کے ساتھ غیب کا اظہار کیا کہ تاریخ انبیاءؑ اور انبیاء ؑمیں سے خاص انبیاء ؑکے سوا کوئی اور نظیر پیش کرنے سے قا صر ہے۔چنانچہ نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے آپ پر وحی نازل کی۔يأتيك من كل فج عميق۔ياتون من كل فج عميق ينصرک رجا ل نوحی اليهم من السماء ولا تصعرلخلق اللہ لا تسئم من الناس دیکھو براہین احمد یہ مطبوعہ ۱۸۸۱ء صفحہ ۲۴۱۔کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔اور ایسی کشرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں جن پر وہ چلیں گے عمیق ہو جائیں گی۔تیری مد وہ لوگ کریں گے جن