انوارالعلوم (جلد 1) — Page 404
کے تم انتظار میں ہو وہ آچکایعنی یوحنا اس کی خوبو پر آیا ہے دیکھو متی باب ۱۱آیت ۱۳-۱۴- قرآن مجیدکی آیت استخلاف پر تدبر کرنے سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ یا دوباره بروزی رنگ میں نازل ہو گا۔کیونکہ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪ (النور ۵۶) مطلب۔ضرور خلیفہ بنائے گا امت محمدیہ کے کامل الایمان عمل صالح کرنے والوں کو جیسا کہ ان سے پہلے موسوی امت میں خلفاء بنائے ہیں۔بتادیا کہ محمدی سلسلہ خلفاء موسوی سلسلہ خلفاء کی مانند ہے۔مشبّہ مشبّہ بہ ایک نہیں ہوتے اس لئے محمدی مسیح اور ہے۔موسوی مسیح اور۔ایک ہی نام کا اطلاق سورة تحریم کے آخر کے مطابق غایت مشابہت سے ہے۔مسیحؑ بن مریم کا حلیہ سرخ رنگ گھونگھریالے بال اور آنے والے مسیح کاحلیہ گندمی رنگ سیدھے بال جیسا کہ حدیث کی کتابوں سے ظاہر ہے۔دونوں کو علیحدہ علیحده ثابت کرتا ہے۔یہاں تک تو موعود کی کیفیت نزول سے بحث تھی۔اور نزول آسمان سے اترنے کو نہیں کہتے چنانچہ نبی کریم اﷺکے بارے میں فرمایا قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ (الطلاق: ۱۰) (۱ تارا تمہاری طرف یاد دلانے والا رسول) اب باقی یہ سوال رہ گیا ہے کہ اس امت محمدیہ سے جو مسیح و مہدی آنے والا تھاوہ حضرت مرزا غلام احمد ساحب ہی کیونکر ہیں ؟ سواس کے لئے دیکھنا چاہیے کہ یہ تو متفق اللفظ مان لیا گیا ہے کہ بی زمان ظہور مہدی کا ہے جیسا کہ اس زمانہ کے فتن سے ظاہر ہے اور اسلام کا ضعف دلالت کرتا ہے۔اور ان الله يبعث لهذه الأمة علی راس کل مئة سنة من یجدد لھا دینھا (ابو داؤد کتاب الملاحم) کی حدیث صحیح اور اس کے مطابق ہر صدی کے سر پر مجد د کا ظہور بھی اس کا مؤید ہے۔اس صدی میں چونکہ صلیب پر ستی کا زور ہےاس لئے ضرور تھا کہ چودھویں صدی کا عظیم الشان مجدد اپنے کام کے لحاظ سے کا سر الصلیب کالقب پائے۔اور مسیح و مہدی کہلائے۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ؑ مبعوث ہو کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔اور آپ نے ان باتوں کابیج بو دیا یا نہیں جن پر اسلام کی ترقی کادارومدار اور دلائل و براہین سے کسر صلیب کا انحصار ہے۔اے حضرات ! آپ انصاف سے دیکھئے اس وقت تمام دنیا اور پھر ملک ہندوستان میں کونسی جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں جماعت کہلانے کی مستحق ہے اور جو اپنے تمام اقوال و افعال کو ایک امام کے ماتحت عملی طور پر دیکھتی ہے اور کون سی وہ جماعت ہے جس میں وحدت جو تمام کامیابیوں کی جڑ ہے موجود ہے اور جو اپنے مال و جان سے قرآن مجید اور نبی اکرم اﷺکی تقدیس و تطہیر اور ان کے عظمت و جلال کے قلوب میں راسخ کرنے کے لئے ہر وقت مستعد ہے۔بلاخوف تردید اس۔