انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 384

ہے۔محسن متقی کے لئے یہ انعام دنیا میں ہیں۔اور آخرت میں اس سے بھی بڑھ کر پائے گا۔وارض اللہ الواسعة متقی کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔مگر گھبرانا نہیں چاہئے۔بلکہ ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔اگر تمہیں ایک جگہ تکلیف ہے تو خدا کی زمین کھلی ہے دوسرے مقام پر ہجرت ہو سکتی ہے۔اور صبر سے کام لینے والوں کو بغیر حساب کے رزق دیاجاتاہے۔صابر کو بے حساب رزق دیا جاتا ہےبادشاہ کے پاس بہت نعمتیں ہیں مگر پھر بھی اس کو کئی دکھ ہیں۔لیکن صابر پر الله تعالیٰ کا بڑافضل ہو تا ہے وہاس سے وعدہ فرماتا ہے کہ میں تجھے بے حساب دوں گا اور یہ سب اجر ہے اس بات کا کہ صابر خداکے حضور اپنی اطاعت کی گردن ڈال دیتا ہے۔اس کے فرمانوں کی بجا آوری پر ثابت قدم رہتا ہے۔اور ہر ابتلاء کے وقت آگے قدم بڑھاتا اور دوسری مخلوق کو بھی یہی تعلیم دیتا ہے اب ان آیات کی پڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ احکام لوگوں کے لئے ہی ہیں یا خود رسول اللہﷺ کو بھی یہ حکم دیئےگئے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ (الز مر،۱۲۱۳) مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں دین کو اس کے لئے خالص کر کے۔اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں فرمانبرداروں میں اول نمبر پر رہوں۔جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ حکم رسول کریم ﷺکے لئے بھی یکساں ہیں۔اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا رسول کریم ﷺنے اس حکم پر عمل بھی کیا کہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ الز مر: ۱۴-۱۵) کہہ کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے عذاب عظیم سے ڈرتا ہوں اور کہہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کی اطاعت میں شریک نہیں کرتا۔ان آیات میں نبی کریمﷺ نے اپنی پاک زندگی کو پیش کیا ہے۔اور ڈنکے کی چوٹ کہا ہے کہ میرا خدا سے تعلق ہے۔کوئی ہے جو میری زندگی پر عیب لگائے۔آریہ زینب ؓکے نکاح کے بارے میں شور ڈالتے ہیں۔اور عیسائی آپ ﷺکو ڈاکو و غیره کہتے ہیں۔(نعوذباللہ ) حالانکہ یہ اس وقت موجود نہ تھے۔اور نہ ان کے پاس معتبر ذرائع سے کوئی خبرپہنچی ہے۔جو لوگ اس وقت زنده گواہ تھے ان کو تو اس زور سے چیلنج دیا گیا کہ میری زندگی پاک ہےکوئی ہے جو عیب لگائے۔میں تو اللہ کی مخلصانہ فرمانبرداری کرتا ہوں۔فاعبدوا ماشئتم من دونہ (الزمر:۱۹، تم اس کے سوا کسی اور کی بندگی کر کے دیکھ لو۔کوئی سکھ ملتا ہے۔ہر گز نہیں۔بلکہ(۱۹:/۔